10 سال بعد پاکستان سے ورکرز کی کویت روانگی

10 سال بعد پاکستان سے ورکرز کی کویت روانگی

کویت سٹی : دس سال بعد پاکستان سے میڈیکل ہیلتھ پروفیشنلز کویت روانہ ہو رہے ہیں۔

جمعرات 22 اکتوبر کو کویت روانہ ہونے والے 226 ہیلتھ پروفیشنلز میں میں ڈاکٹرز، پیرامیڈکس اور نرسز شامل ہیں۔ 200 میڈیکل ہیلتھ پروفیشنلز کا دوسرا دستہ بھی جلد کویت روانہ ہوگا۔

اس حوالے سے وزارت سمندر پار پاکستانیز میں ایک تقریب کا اہتمام بھی کیا گیا جس سے وزیر اعظم کے معاون خصوصی برائے اوورسیز پاکستانیز اینڈ ہیومن ریسورس ڈویلپمنٹ سید ذوالفقار عباس بخاری اور پاکستان میں کویت کے سفیر نصر عبدالرحمن جے الموتیر نے خطاب کیا۔

معاون خصوصی ذلفی بخاری نے اپنے خطاب میں کہا کہ ’پاکستان کویت کی ترقی کے لئے پوری طرح پرعزم ہے اور متعدد شعبوں میں ہنر مند افرادی قوت فراہم کرے گا ، جسے اس کے ویژن 2035 کے ساتھ منسلک کیا گیا ہے۔‘

انہوں نے کہا کہ ’کویت کو افرادی قوت کی برآمد کی بحالی پاکستان کے لئے ایک تاریخی لمحہ تھا کیونکہ پچھلے 10 سالوں میں کوئی بھی کارکن خلیجی ملک نہیں بھیجا گیا تھا۔‘

انھوں نے کہا کہ ’ماضی قریب میں متعدد ممالک نے پاکستانی افرادی قوت کی خدمات حاصل کرنے میں دلچسپی ظاہر کی تھی۔کویت نے مزید ایک ہزار سے زائد پاکستانی صحت سے متعلق پیشہ ور افراد کی خدمات حاصل کرنے کا منصوبہ بنایا ہے۔ جن میں ڈاکٹرز، پیرا میڈیکس اور نرسیں شامل ہیں۔

جمعرات کو روانہ ہونے والی پہلی کھیپ میں 226 طبی پیشہ ور افراد شامل ہیں اور اس کے بعد مزید دو سو ہیلتھ پروفیشنلز روانہ ہوں گے۔

ذلفی بخاری نے کہا کہ ’صحت کی دیکھ بھال کرنے والے پیشہ ور افراد سے گزارش کی کہ وہ اپنی ذمہ داری کو پوری طرح سے سرانجام دے کر ملک کے سفیروں کی حیثیت سے کام کریں اور اس سے مزید افرادی قوت کی برآمد کے لئے راہ ہموار ہوں۔‘

انہوں نے کہا کہ ’آپ ہی ہوں گے جو کویت میں ملازمت کے خواہش مند دوسرے پاکستانیوں کے لئے راہ ہموار کریں گے۔‘

انہوں نے کہا ’ہم کویت کے ساتھ ہر شعبے میں اپنے تعلقات کو بڑھانا چاہتے ہیں ، خاص طور پر جو اس کے وژن 2035 کے ساتھ جڑے ہوئے ہیں۔‘

معاون خصوصی نے کہا کہ ’کورونا وائرس وبائی مرض سے قبل ، پاکستان تحریک انصاف کی حکومت نے مختلف ممالک میں بڑی تعداد میں ملازمت کے مواقع تلاش کرنے کے بعد تقریبا دس لاکھ پاکستانیوں کو بیرون ملک بھیج دیا تھا۔‘

اس موقع پر پاکستان میں کویت کے سفیر نصر عبدالرحمن جے الموتیر نے  بھی خطاب کیا اور کہا کہ ’کورونا وائرس کے مشکل وقت میں کویت کو طبی امداد فراہم کرنے پر پاکستان کا شکریہ ادا کرتے ہیں۔‘

کویتی سفیر نے یقین دہانی کرائی کہ ’کویت میں قیام کے دوران پاکستانی کارکنوں کو مکمل سہولیات فراہم کی جائیں گی۔ آپ اپنے ہی ملک میں جارہے ہیں۔ مجھے یقین ہے کہ آپ کویتی بھائیوں اور بہنوں کے لئے آپ کی بہت بڑی مدد ثابت ہوں گے۔‘

اس موقع پر روانہ ہونے والے ہیلتھ پروفیشنلز کے لیے سوال و جواب کا سیشن بھی منعقد کیا گیا جس میں ان کے سوالات اور خدشات کے بارے میں تفصیل سے آگاہی دی گئی۔