بینظیر بھٹو اور مرتضیٰ کو آصف زرداری نے قتل کرایا، پرویز مشرف کا الزام

بینظیر بھٹو اور مرتضیٰ کو آصف زرداری نے قتل کرایا، پرویز مشرف کا الزام

لاہور: سابق صدر پرویز مشرف نے نیا پنڈورا باکس کھول دیا۔ اپنے ویڈیو پیغام میں پرویز مشرف نے الزام لگایا کہ بینظیر بھٹو اور مرتضیٰ بھٹو کا قاتل آصف زرداری ہے۔ بینظیر بھٹو کو بیت اللہ محسود اور اسکے آدمیوں نے قتل کیا لیکن ایک شخص ان کے پیچھے موجود تھا۔ بے نظیر کے قتل میں زرداری اور افغانستان سے سینئر لوگ ملوث ہیں۔


ان کا مزید کہنا تھا دو بہترین پولیس آفیسرز کو 17 سال کی سزا دی گئی اور اصل دہشتگردوں کو چھوڑ دیا گیا۔ زرداری اور ایک اہم شخصیت کے صدر کرزئی کے ساتھ اچھے تعلقات تھے جبکہ انہوں نے سوال اٹھایا بم پروف گاڑی کی چھت کاٹ کر کھڑکی کس نے بنوائی اس کا پتا لگانا چاہئیے  بے نظیر خطاب کر کے واپس گاڑی میں بیٹھ گئی تھی لیکن کسی نے انھیں فون کر کے کہا کہ باہر آ کر خطاب کریں۔ سانحہ کے بعد ٹیلی فون غائب کر دیا گیا اور 2 سال بعد واپس ملا اور سب کچھ مٹا دیا گیا۔

انہوں نے بتایا کہ بینظیر بھٹو گاڑی کے اندر ناہید خان اور انکے خاوند صفدر عباسی، مخدوم امین فہیم اور انکا جیل کا ساتھی خالد شہنشاہ بیٹھا ہوا تھا جسے سکیورٹی انچارج بنایا گیا تھا۔ تشویشناک بات ہے کہ کچھ عرصے بعد کراچی میں خالد شہنشاہ کو قتل کر دیا گیا اور بعد میں شہنشاہ کو قتل کرنے والے شخص کو بھی قتل کر دیا گیا یہ سب آصف زرداری نے کروایا۔

سابق صدر پرویز مشرف نے کہا رحمان ملک دھماکے کے بعد بھاگ کر اسلام آباد چلے گئے اور بے نظیر کا اسلام آباد جانے کا روٹ تبدیل کیا گیا تھا اس روٹ کی تبدیلی کے کیا مقاصد تھے ان تمام سوالوں ک جواب ایک ہی قاتل شخص آصف زرداری دے سکتا ہے۔

سابق صدر کا ویڈیو  پیغام

یاد رہے گزشتہ دنوں راولپنڈی کی انسداد دہشت گردی عدالت نے بینظیر بھٹو قتل کیس کا فیصلہ سنایا تھا جس کے تحت 5 گرفتار ملزمان کو بری کر دیا گیا جبکہ سابق سٹی پولیس افسر سعود عزیز اور سابق سپرنٹنڈنٹ پولیس خرم شہزاد کو مجرم قرار دے کر 17، 17 سال قید کی سزا اور مرکزی ملزم سابق صدر پرویز مشرف کو اشتہاری قرار دیتے ہوئے ان کی جائیداد  قرق کرنے کا حکم بھی دیا تھا۔

عدالت کے فیصلے کے فوری بعد ضمانت پر رہا دونوں پولیس افسران سعود عزیز اور خرم شہزاد کو ہتھکڑیاں لگا کر گرفتار کر لیا گیا۔ عدالت نے فیصلے میں کہا تھا کہ دونوں پولیس افسران کو 5، 5 لاکھ روپے جرمانہ بھی ادا کرنا ہو گا جبکہ جرمانے کی عدم ادائیگی پر 6، 6 ماہ مزید قید بھگتنا ہوگی۔

فیصلے کے مطابق دونوں پولیس افسران کو واقعے کے فوری بعد جائے وقوعہ کو دھو کر شواہد ضائع کرنے اور مقتول سابق وزیراعظم کا پوسٹ مارٹم نہ کروا کر کیس پر اثر انداز ہونے پر سزا سنائی گئی۔

واضح رہے کہ 27 دسمبر 2007 کو پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کی سربراہ اور سابق وزیر اعظم بینظیر بھٹو کو راولپنڈی کے لیاقت باغ میں جلسے کے بعد خود کش حملہ اور فائرنگ کرکے قتل کر دیا گیا تھا جبکہ اس حملے میں 20 دیگر افراد بھی جاں بحق ہوئے تھے۔

نیو نیوز کی براہ راست نشریات، پروگرامز اور تازہ ترین اپ ڈیٹس کیلئے ہماری ایپ ڈاؤن لوڈ کریں