22 ماہ میں برآمد 71 ارب قومے خزانے میں جمع

22 ماہ میں برآمد 71 ارب قومے خزانے میں جمع
image by facebook

اسلام آباد:نیشنل اکائونٹی بیلٹی بیورو نے 22 ماہ کے دوران 71 ارب روپے برآمد کر لیے ، چیئرمین نیب جسٹس جاوید اقبال کا کہنا ہے کہ اعدادو شمار ہماری بہترین کارکردگی کی علامت ہیں۔


ایک اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے چیئرمین نیب کا کہنا تھا کہ گزشتہ 22 ماہ کے تقابلی اعداد و شمار نیب کی بہترین کارکردگی کی نشاندہی کرتے ہیں کیونکہ بیورو نے 71 ارب روپے برآمد کیے اور انہیں قومی خزانے میں جمع کروادیا جو ایک ریکارڈ کامیابی ہے ، ترجمان نیب نے چیئرمین کے بیان کے حوالے سے بتایا کہ بیورو آہنی ہاتھوں سے احتساب سب کے لیے پالیسی کو اپناتے ہوئے کرپشن کے خاتمے کے لیے پُرعزم ہے۔

چیئرمین نیب کا کہنا تھا کہ احتساب کا ادارہ موثر قومی انسداد بدعنوانی حکمت عملی کے ذریعے کرپشن کی جڑیں ختم کرنا چاہتا ہے اور اس کی اصل توجہ وائٹ کالر کرائمز پر ہے ، انہوں نے کہا کہ گزشتہ سال کے مقابلے میں اس سال شکایات، انکوائریز اور انویسٹی گیشنز کے اعداد و شمار میں تقریباً دوگنا اضافہ ہوا۔

اپنی بات جو جاری رکھتے ہوئے جسٹس (ر) جاوید اقبال کا کہنا تھا کہ نیب نے 22 ماہ کے دوران متعلقہ احتساب عدالتوں میں 600 کرپشن کیسز بھی دائر کیے، جو اس وقت زیرسماعت ہیں۔

انہوں نے کہا کہ معروف قومی اور بین الاقوامی تنظیموں جیسے ٹرانسپرنسی انٹرنیشنل، ورلڈ اکنامک فارم، پلڈاٹ اور مشعال پاکستان نے معاشرے سے کرپشن کے خاتمے کے لیے نیب کی کوششوں کو سراہا جبکہ گیلانی ریسرچ فاؤنڈیشن اور گیلپ سروے کے مطابق 59 فیصد لوگوں نے نیب پر اعتماد کا اظہار کیا ہے۔

جسٹس (ر) جاوید اقبال کا کہنا تھا کہ نیب نے سینئر سپروائزری افسران کے تجربے اور اجتماعی دانشمندی سے فائدہ اٹھانے کے لیے کمپائنڈ انویسٹی گیشن ٹیم (سی آئی ٹی) کے نئے تصور کو متعارف کروایا ہے ، سی آئی ٹی ایک ڈائریکٹر، ایڈیشنل ڈائریکٹر، تفتیشی افسر اور ایک سینئر وکیل پر مشتمل ہوتی ہے۔

دوران اجلاس چیئرمین نیب کا کہنا تھا کہ یہ کام کرنے کے لیے صرف معیار فراہم کرنا نہیں بلکہ اس بات کو یقینی بنانا ہے کہ نیب کی کارروائی میں کسی بھی فرد کی مداخلت نہ ہو۔

نیب کے سربراہ کا کہنا تھا کہ راولپنڈی میں بیورو نے دور جدید کی سہولیات کی حامل فرانزک لیب قائم کی جو ڈیجیٹل فرانزک، دستاویز اور فنگرپرنٹ کا جائزہ لینے کی سہولیات فراہم کر رہی اور ان سہولیات سے ہر لحاظ سے انکوائری اور انویسٹی گیشن کا معیار مزید بہتر ہو رہا ہے۔