افغانستان :مزارشریف میں فوجی اڈے پر طالبان کےحملے،50 فوجی ہلاک،حملے میں درجنوں افغان فوجی زخمی،اسپتال منتقل کر دیا گیا

 تفصیلات کے مطابق طالبان جنگجو فوجی وردی پہن کر اڈے میں داخل ہوئےجوابی کارروائی میں 7دہشت گرد ہلاک ہو گئے جبکہدہشتگردوں نے خودکش دھماکا کیا ،  اورایک کو گرفتار بھی کرلیا گیا ۔

مزید تفصیلات کے مطابق افغانستان میں عسکری حکام کا کہنا ہے کہ شمالی صوبے بلخ میں ایک فوجی اڈے پر ہونے والے حملے میں کم از کم 50 افغان فوجی ہلاک اور درجنوں زخمی ہو گئے ہیں۔تاہم بعض اطلاعات کے مطابق ہلاک اور زخمی ہونے والے فوجیوں کی تعداد اس سے زیادہ ہے۔

اس حملے کی ذمہ داری طالبان نے قبول کی ہے۔ ان کا دعویٰ ہے کہ انھوں نے افغان فوج کو بھاری نقصان پہنچایا ہے۔

فوجی ترجمان کا کہنا ہے کہ طالبان جنگجو فوجی وردی پہن کر اڈے میں داخل ہوئے اور پھر انھوں نے حملہ کر دیا۔ایک آرمی کمانڈر کے مطابق شام تک جائے وقوع سے فائرنگ کی آوازیں سنائی دیتی رہیں اور کم از کم ایک حملہ آور نے خود کو دھماکے سے اڑا لیا۔

مزارِ شریف میں یہ فوجی اڈہ افغان نیشنل آرمی کی 209ویں کارپ کی بیس ہے۔ یہ فوجی دستہ شمالی افغانستان میں سکیورٹی کا ذمہ دار ہے اور اس کے زیرِ نگرانی علاقے میں کندوز صوبہ شامل ہے جہاں حال ہی میں شدید لڑائی دیکھی گئی ۔