معاہدے کے باوجود ایران جوہری بم تیار کر رہا ہے، اپوزیشن کا الزام

تہران:ایرانی اپوزیشن نے الزام عائد کیا ہے کہ امریکا سمیت چھ عالمی طاقتوں کے ساتھ جوہری پروگرام کو روکنے کا معاہدہ کرنے کے باوجود ایران ایٹم بم کی تیاری پر کام کر رہا ہے۔غیر ملکی میڈیا کے مطابق ایران کی بیرون ملک اپوزیشن قومی مزاحمتی کونسل نے کہا ہے کہ تہران رجیم نے جولائی 2015 کے دوران چھ عالمی طاقتوں سے طے پایا سمجھوتہ پس پشت ڈال دیا ہے۔ ایرانی حکومت جوہری سرگرمیوں پر پابندی کا معاہدہ قبول کرنے کے باوجود ایٹم بم تیار کر رہی ہے۔
امریکا کے دارالحکومت واشنگٹن میں ایرانی اپوزیشن کے نمائندہ دفتر میں ایک پریس بریفنگ میں بتایا گیا کہ ایران نے بارچین فوجی اڈے پر جوہری اسلحہ سازی کا ایک نیا ریسرچ سینٹر قائم کیا ہے جو اس بات کا ثبوت ہے کہ ایران جوہری بم کی تیاری پر مسلسل کام کر رہا ہے۔ایرانی حکومت کے مخالف مجاھدین خلق کے مندوبین نے ایران کے اندر سے مصدقہ اطلاعات فراہم کی ہیں اور بتایا ہے کہ معاہدے کے باوجود ایران میں جوہری ہتھیاروں کی تیاری کا بنیادی ڈھانچہ اپنی جگہ قائم ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ کئی مقامات پر نئے پلانٹ بھی لگائے جا رہے ہیں مگر انہیں خفیہ رکھنے کی کوشش کی جا رہی ہے تاکہ عالمی توانائی ایجنسی کے معائنہ کاروں سے انہیں خفیہ رکھا جا سکے۔
ایران سے ملنے والی معلومات کے مطابق سات ذیلی گرپوں پر مشتمل ایران کا ایک ریسرچ مرکز جسے SPND کا نام دیا گیا ہے جوہری اسلحے کی تحقیق میں سرگرم ہے۔ایرانی اپوزیشن نے 2011 میں اس ادارے کا پتا چلایا تھا۔ اس کے تین سال بعد 29 اگست 2014 کو امریکی وزارت خارجہ نے اس تنظیم کو بلیک لسٹ کردیا تھا۔