ہزارہ کا قتل عام کب تک؟

ہزارہ کا قتل عام کب تک؟

دہشت گردی کے خلاف ایک طویل جنگ کے بعد پاکستان کے شہر،بازار اور بستیاں کچھ عرصہ سے امان میں ہیں۔ دہشت گردوں کا شہروں سے کافی حد تک صفایا ہو چکا ہے۔مگر اس کے باوجود ایک طبقہ ایسا ہے جو مسلسل دھشت گردی کا شکار ہےاور اس مخصوص طبقے کو اس افریت سے بچانے کے لئے ریاست کی طرف سے کوئی خاص دلچسپی دیکھنے کو نہیں مل رہی۔


ورنہ طالبان، القاعدہ ،اور داعش جیسے عالمی بھیڑیوں سے زیادہ خطرناک اور زیادہ منظم یہ شدت پسند نہیں ہو سکتے جو تواتر کے ساتھ ہزارہ کمیونٹی کے قتل عام میں مگن ہیں۔حکومت پاکستان  ہمارے خفیہ تحقیقی اداروں کے ذریع کھوج لگائے یہ کون لوگ ہیں جو ایک مظلوم کمیونٹی کی نسل کشی میں مصروف ہیں۔عسکری ادارے دیگر دہشت گرد گروہوں کی طرح اس قتل عام کو روکنے کے لئے بھی اقدامات اٹھائیں۔

انسانیت کا تسلسل سے قتل عام ریاست کے لئے ایک سوالیہ نشان ہے۔کہاں ایک طرف وہ عالمی دہشت گردی اور کہاں یہ مخصوص قبیلے کا قتل عام۔ریاست اگر ان عالمی خونخوار بھیڑیوں پر قابو پا سکتی ہے تو پھر ہزارہ قبیلہ کے افراد کے قتل عام پر اس قدر بےحسی کیوں؟ ملک اس وقت کئی طرح کے دیگر بحرانوں کا شکار ہے، معاشی بحران ،سیاسی عدم استحکام ،مہنگائی ،غربت ، بیروزگاری، کرپشن ،نظام عدل کا تعطل اور دیگر مسائل کے ساتھ ساتھ اگر اس طرح کے واقعات بھی چلتے رہے تو ملکی استحکام پر سخت منفی اثرات مرتب ہونے کا اندیشہ ہے۔کم سے کم ریاست اگر دیگر مسائل پر قابو پانے کی اہل نہیں رہی تو لوگوں کی جان و مال کی حفاظت تو یقینی بنائے۔

عوام کو بالکل ہی بے یارو مدد گار تو نہ چھوڑا جائے۔آج ہزارہ برادری کس سے امان مانگے، کس سے فریاد کرے؟ کس سے عدل مانگے؟اگر ریاست انہیں تحفظ فرائم نہیں کرے گی ان کی جان و مال کی حفاظت کو یقینی نہیں بنائے گی تو کون ہے پھر جو اس قبیلے کے جوان،بوڑھے بچوں اور عورتوں کی جان اور مال کو تحفظ فرائم کرے گا۔انتظامیہ کم سے کم اتنا تو کرے وہ لوگ جو پرامن زندگی گزارنا چاہتے ہیں۔

جو اپنی جان و مال کا تحفظ چاہتے ہیں ان کو سیکیورٹی ہی معیاء کر دے۔کہیں ایسا نہ ہو کہ تنگ آ کر اپنے دفاع میں خود ہزارہ قبیلہ بھی ہتھیار اٹھا لے اور پھر ایک نئی جنگ کا آغاز ہو جائے۔قبل اس کے ایسی نوبت آئے ریاست اپنی رٹ تسلیم کروائے اور ایسے لوگوں کو نشان عبرت بنا دے جو مسلسل ایک ہی قبیلے کو نشانہ بنائے ہوئے ہیں۔اس یک طرفہ جنگ  کو باقاعدہ فرقہ وارانہ جنگ میں بدلنے سے پہلے ہی سدباب ہونا چاہیئے۔کہیں ایسا نہ ہو کہ یہ چنگاری الاو بن کر  ایک مرتبہ پھر پورے ملک کو اپنی لپیٹ میں لے لے۔

محمد جاوید قریشی

(ادارے کا بلاگر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں)