لاک ڈاون میں زندگی

لاک ڈاون میں زندگی

قوم ایک عجیب مخمصے کا شکار ہے، کہ کریں تو  کیا کریں  ہر آنے والا دن مشکلات میں اضافہ کیے جا رہاہے۔


  ہر طر ف خو ف نے پنجے گاڑدیے ہیں۔کورونا وایرس نے زندگی کے پہیے کو جام کر دیا ہے ۔ اس دوران وفاق اور اس کی تمام اکایاں  ایک صفحے پرمنتج نظرنہی آرہیں۔ وفاق کی سمت مشرق اور صوبوں کی مغرب۔ حکومت اور اپوزیشن بھی ایک دوسرے کےساتھ   پنجہ آزمائی میں باہم مصروف عمل ہیں۔  سیاسی داوو پیچ بھی ساتھ ساتھ آزماے جا رہے ہیں۔ یوں لگتا ہے کہ میدان سجنے کو ہے۔ کون جیتا ہے تیری ذلف کے سر ہونے تک۔ لاک ڈاون کے مضمرات سے کیسے نکلیں  شاید اس کے لیے کسی کے پاس فرصت نہہں۔ ایک دن کی چھٹی قومی خزانے کوتقریباً بیاسی ارب میںپڑھتی ہے۔آج تقریباً پچیس دن ہونے کو ہیں ۔ لوگ بے روزگار ہورہے ہیں۔ بھوک ،ننگ اورافلاس بنگھڑے ڈال رہی ہے۔

سرمایہ دار  نے اپنے دروازے بند کر دیے ہیں۔بگڑتی صورت حال مزید گمبیر ہوتی جارہی ہے۔    ایک طرف کھڈا ہے  اور دوسری طرف کھای ۔ آگے بڑھتے ہیں تو      مو ت کے منڈلاتے ساے ،پیچھے مڑ کر دیکھیں تو بھوک رقص کناں۔ اس دوران کتنے گھروں کے چولہے بجھ گے۔ کتنے بچے بھوک کی انگڑایاںلیتے سو ے۔ شاید کسی کو بھی معلوم نہ ہو۔ انڈسٹری کے دروازے  بند ہو رہے ہیں لوگوں کی جابزچھین رہی ہیں۔ کل رات ایک دوست کی کال موصول ہوی۔ پوچھنے پر بتایا کہ نوکری چلی گی۔ آدھے سے ذیادہ سٹاف کو فارغ کر  دیا گیا۔ حیرانگی اس بات پر نہی کہ فارغ کر دیا گیا بلکہ اس بات پر ہے کہ پورے معاملے کا کوی ریگولیٹر نہی ۔ ریاست صرف سرمایہ دار کے مفادات کی محافظ نہی بلکہ ہر اس شخص کی ہے جس کی محنت کے بل بوتے پر محلات تعمیر کیے جاتے ہیں۔ اور مشکل پڑھنے پر بغیر کچھ لیے دیےگھرکا دروازہ دکھلا دیے جاتا ہے۔

ہم اداروں کی مضبوطی کی بات صرف اس وقت کرتے ہیں جب ان کی ضرورت پڑھتی ہے۔  عام طور پر ان کی صلاحیت بڑھانے میں  کسیکوکوی دلچسپی  نہی ہوتی۔لیبر قوانین اور ان پر عملدرآمد کروانے اور ان پر عمل کروانے میں سب سے  ذیادہ متحرک کردار لیبر ڈیپارٹمینٹ   کانظر آنا چاہیے ۔ مزدور سے لے کر مینجر تک تمام ملازمین جو کسی بھی ادارے میں کام کرتے ہوں ان کے مفادات کا تہحفظ ریاست کی بنیادی ذمہ داری ہے۔ ان کے مفادات کے تحفظ سے ہی مستقل کے معمار کی دستیابی ہو گی۔ ورنہ محنت کش کے ہاں محنت کش ہی  پیدا ہوتا رہے گا۔اس ساری صورت حال میں سب سے ذیادہ پریشان انشورنس کمپنیاں کو  ہونا چاہیے ۔لیکنآپ کوان کاکو ی کردارنظر نہی آرہا ہو گا۔  اس کی وجہ شاید قوانین پر عملدرآمد نہ ہونا یا پھر سرے سے قوانین کا موجود نہ ہونا۔

دونوں صورتوں میں مفادات میں تصادم یعنی کنفلکٹ آف انٹرسٹ کےحامل قوانین پر عملدرآمد نہ ہونا بنیادی اسباب ہیں۔ ہمیں اس بات کا خیال رکھنا ہو گا کہ خوشحال ہو گی تو روشن پاکستا ن ہو گا۔ مغر ب اس نتیجہ پر غالباً ستر کی دھای میں ہی پہنچ گیا تھا جب اس نے محنت کش کو سفید پوش کے برابر حقوق عطا کر دیے۔ تنخواہ کے فرق کو کم سے کم کیا اور محنت کش کے بنیادی مفادات کا تحفظ یعقینی بنایا۔ ہفتہ میں دہ دن کی چھٹی اور کام کی صورت میں اضافی تنخواہ کا حقدار ٹھہرا۔پیداواری لاگت میں اضافہ ہو۱ ۔ سرمایہ دار کے منافہ پر کاری ضرب پڑھی ۔امیر کو امیر ہونےسے روکا ، غریب کو غربت کی چکی سے نکالا۔یہی بنیادی وجہ ہے کہ آج ہمارا ہر نوجوان مغر ب کی جانب کھچا چلا جا رہا ہے۔ بنیادی مفادات کے تحفظ کے لیے قوانین میں مناسب تبدیلی اور ان پر مرحلہ وار عمل درآمد یعقینی بنانا ہو گا بصورت دیگر غربت کی لکیر اور گہری ہوتی  چلی جاے گی اور غریب کا ہاتھ گریبان سے ذیادہ گردن کے قریب ہوتا چلا جاے گا۔

موجودہ صورت حال میں تمام پرایویٹ  بشمول سرکاری ادارے جو عوام کو واسطہ یا بلا واسطہ سروسزز مہہیا کرتے ہیں وہ بھی بند ہیں۔ جن میں پاسپورٹ، نادرہ اور اراضی ریکارڈ سینٹرشامل ہیں۔ پی ایل آر اے واحد ادارہ ہے جواسوقت  اپنی خدمات عوام تک اپنی آن لاین سروسز کے ذریعے باہم پہنچا رہا ہے۔   آپ گھر بیٹھے فرد حاصل کر  سکتے ہیں  اور اسکی فیس کسی بھی بنک کی آن لاین سروس کے ذریعے جمع کروای جا سکتی ہے۔ یعقیناً  باقی ماندہ سروس فراہم کرنے والے اداروں  کو راہ عمل فراہم کرتی ہے۔یہ وہ ادارے ہیں جو بلا تعطل باہمی تال میل کے بغیرآن لاین    سروسز کا اجرا  یعقینی بنا سکتے ہیں ۔ اس سے نہ صرف حکومتی آمدن میں خاطر خواہ اضافہ بلکہ عوام کو سہولت  بھی باہم پہہنچای جا سکے گی۔  اور کورونا کے پیش نظر حفاظتی اقدامات پر بھی کوی سمجھوتا نہی کرنا پڑے گا۔

تمام حکومتی بشمول پرایویٹ اداروں  کو اس بات پر مایل کیا جاے کہ مستقبل کی غیر یعقینی صورت حال سے بچنے کے لیے اپنی آن لاین سروسز کا اجرا یعقینی بنایں۔ ان اقداما ت کی بدولت  اداروں میں شفافیت  ، حکومتی آمدن  میں خاطر خواہ اضافہ اور  دستاویزی اور کیش لیس اکانومی کی بنیاد رکھی جا سکے  گی جس کا حکومتی اکابرین  شدومد سے تذکرہ کرتے  ہیں۔مشکل حالاتیعقیناً  چیلجنز کے ساتھ مواقعے بھی اپنے ساتھ لے کر آتے ہیں۔ فایدہ اٹھایں ہر گھر کو انڈسٹری میں بدل دیں۔ فری لانسگ کو ہوا دیں۔ ہر کام کو آن لاین سروسز کے ساتھ جوڑ دیں۔ ادارے پنپیں گے ہی نہی بلکہ پھلیں گےاور پھولیں گے۔تقدیر سے یا پھر تدبیر سے لڑھنا ہے یہی فیصلہ کرے گا کہ کویلہ بنیں گے کہ کندھن بن کر ابھریں  گے۔ فراست کا امتحان ہے۔

وطن کی مٹی مجھے ایڑیاں رگڑنے دے

مجھے یقین ہے کہ چشمہ یہیں سے نکلے گا

محمد شفیق چوہدری ۔ @ShafiqsiddiqchFor feedback twitter

(ادارے کا بلاگر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں)