شہباز شریف کا مقابلہ کرنا ہے تو خدمت سے کرو،جھوٹے مقدمات سے نہیں: مریم نواز

شہباز شریف کا مقابلہ کرنا ہے تو خدمت سے کرو،جھوٹے مقدمات سے نہیں: مریم نواز
کیپشن:   شہباز شریف کا مقابلہ کرنا ہے تو خدمت سے کرو،جھوٹے مقدمات سے نہیں: مریم نواز سورس:   file

لاہور: پاکستان مسلم لیگ ن کی نائب صدر مریم نواز نے شہباز شریف کی ضمانت منظور ہونے پر کہا  ہے کہ ‏دس سال کہیں بھی ناانصافی کا سن کر پہنچ جانے والے کو آخر انصاف مل گیا۔

مریم نواز نے اپنی ٹویٹ میں کہا جتنی مرتبہ بھی شہباز شریف صاحب کو گرفتار کیا، ان کا جرم صرف وفا نواز شریف نکلا،شہباز شریف کا مقابلہ کرنا ہے تو خدمت میں کرو۔جھوٹے مقدمات کے ذریعے خدمت کے نشان نہیں مٹائے جاسکتے۔

واضح رہے کہ لاہور ہائیکورٹ نے  منی لانڈرنگ کیس میں مسلم لیگ ن کے صدر اور قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر میاں شہباز شریف کی ضمانت  منظور کرلی ہے۔تین رکنی بینچ نے فریقین کے دلائل سننے کے بعد درخواست پر فیصلہ سنایا.

جسٹس علی باقر نجفی کی سربراہی میں لاہور ہائیکورٹ کے تین رکنی بنچ نے کیس کی سماعت کی ۔ جسٹس عالیہ نیلم اور جسٹس شہباز رضوی بھی بنچ کا حصہ تھے ۔

سماعت شروع ہوئی تو نیب پراسیکیوٹر نے اپنے دلائل دیے اور ضمانت کی درخواست کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ شہباز شریف کے وکیل اعظم نذیر تارڑ کے دلائل کہ ضمانت دے کر فیصلہ تبدیل کیا گیا یہ توہین عدالت ہے ۔عدالت نے دونوں طرف سے دلائل سن کر ضمانت کی درخواست منظور کرلی اور شہباز شریف کو 50،50 لاکھ دو مچلکے جمع کرانے کا حکم دیا۔

 گزشتہ ہفتے شبہاز شریف کی دورکنی بنچ نے ضمانت منظور کی تھی لیکن جسٹس اسجد جاوید گھرال کے اختلافی نوٹ کی بناپر چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ جسٹس قاسم خان نے فل بنچ تشکیل دیا تھا  جس نے  گزشتہ سے دوبارہ سماعت شروع کی ۔

گزشتہ روز کی سماعت کے دوران لاہور ہائیکورٹ نے ریمارکس دیئے تھے کہ کیس کے تمام حقائق جان کر ہی فیصلہ کرسکتے ہیں شہباز شریف کی ضمانت ہونی ہے یا نہیں۔

بدھ کو ایک گھنٹہ بیس منٹ تک جاری رہنے والی سماعت میں شہباز شریف کے وکلا اعظم نذیر تارڑ اور امجد پرویز نے دلائل دیے تھے۔ اعظم نذیر تارڑ ایڈووکیٹ نے موقف اختیار کیا کہ قانون کے مطابق ریلیف دیا گیا تھا۔

وکیل کے مطابق ضمانت دی گئی 3 دن گزرنے کے باوجود ہائیکورٹ کی ویب سائٹ پر ضمانت منظوری کا رزلٹ ظاہر ہوتا رہا۔ میری 27 سالہ وکالت میں ایسا نہیں ہوا کہ تین دن بعد فیصلہ بدلہ ہو۔

اس پر عدالت نے کہا کہ کبھی اپنے سائل کو مت بتائیں کہ جب تک آپ فیصلہ دیکھ نہ لیں۔اعظم نذیر نے کہا کہ عدالت نے ضمانت منظور کرلی لیکن فیصلہ بدل دیا گیا۔ اس پر عدالت کا کہنا تھا کہ جب تک تحریری حکم نہیں آتا کوئی اندازہ نہیں لگانا چاہیے۔ یہ آپ کے لیے سبق ہے۔