جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کیس، معزز جج صاحبان آپس میں ہی الجھ پڑے

جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کیس، معزز جج صاحبان آپس میں ہی الجھ پڑے
کیپشن:   جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کیس، معزز جج صاحبان آپس میں ہی الجھ پڑے سورس:   file

اسلام آباد: سپریم کورٹ میں جسٹس قاضی فائز عیسیٰ صدارتی ریفرنس نظر ثانی کیس کے دوران معززجج صاحبان آپس میں الجھ پڑے ۔جسٹس مقبول باقر کمرہ عدالت سے اٹھ کر چلے گئے۔ججز کے درمیان تلخ جملوں کے باعث جب ماحول زیادہ خراب ہو اتو سماعت میں  وقفہ کر دیا گیا ۔

سپریم کورٹ میں صدارتی ریفرنس نظر ثانی کیس کی سماعت جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں 10 رکنی لارجر بنچ نے کی۔دوران سماعت جج صاحبان کا آپس میں سخت جملوں کا تبادلہ  ہوا۔

 جسٹس مقبول باقر نے ایڈیشنل اٹارنی جنرل سے مکالمے میں کہا ہم نے دوسرے فریق کو بھی بتایا تھا وقت کم ہے، آپ مہربانی فرما کر وقت کی اہمیت کو سمجھیں۔جسٹس منیب اختر نے ایڈیشنل اٹارنی جنرل سے کہا آپ اپنا وقت لیں۔ دلائل اپنی مرضی سے دیں۔

اس پر  جسٹس مقبول باقر نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا آپ بیچ میں مداخلت نہ کریں میں آپ سے سینئر ہوں  یہ کوئی طریقہ نہیں ہے اپنے سینئر جج کو ٹوکنے اور بات کرنے کا یہ سماعت کسی دھونس سے نہیں چلے گی ۔

 جسٹس منیب اختر نے کہا یہاں کوئی ریس تو نہیں لگی ہوئی ۔جسٹس مقبول باقر نے کہا بندیال صاحب بس بہت ہوگیا میں نے کبھی جسٹس منیب اختر صاحب کی گفتگو میں مداخلت نہیں کی  ہمارے پاس وقت کی کمی ہے۔جسٹس منیب اختر نے کہا میں تو صرف سوال پوچھنا چاہ رہا تھا،کیا میں سوال کر سکتا ہے۔

جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا آپ سوال پوچھیں۔جسٹس مقبول باقر نے کہا ہم نے دوسرے فریق کو چالیس مرتبہ کہا وقت کی کمی ہے، اگر کوئی جان بوجھ کر مقدمے کو طول دینا چاہتا ہے تو یہ الگ بات ہے، پوری دنیا اس مقدمے کے تناظر میں سپریم کورٹ کی طرف دیکھ رہی ہے۔

 جسٹس مقبول باقر نے ایڈیشنل اٹارنی جنرل سے پھر مکالمہ کرتے ہوئے کہا آپ بہت معقول انسان ہیں اپنے دلائل جلد مکمل کریں،آپ ہمیں عدالتی نظیروں کے حوالہ جات نوٹ کروا دیں ہم پڑھ لیں گے وقت بہت کم ہے۔

جسٹس سجاد علی شاہ نے جسٹس مقبول باقر کی طرف ہاتھ سے اشارہ کرتے ہوئے کہا اگر آپ نے یہی رویہ رکھا تو میں اٹھ کر چلا جاؤں گا،بہت ہو گیا ہر چیز کی حد ہوتی ہے۔اس کے بعد جسٹس مقبول باقر اپنی نشست پر کھڑے ہوئے اور کمرہ عدالت سے چلے گئے ۔

جب عدالتی کارروائی کاماحول زیادہ خراب ہوا تو تمام جج صاحبان اپنی نشست سے اٹھ کر کمرہ عدالت سے چلے گئے اور عدالتی کارروائی میں وقفہ کر دیا گیا ۔

 دوبارہ سماعت شروع ہوئی تو جسٹس عمرعطا بندیال نے کہا جب آپ پانی نہ پی سکیں تو تازہ ہوا میں سانس کافی ہوتا ہے،روزہ کی وجہ سے ہم بھی تازہ ہوا میں سانس لیکر آئے ہیں،جسٹس مقبول باقر بینچ کی ڈارلنگ ہیں۔کیس کی سماعت کل دوبارہ ہوگی ۔