افغانستان میں امن کا مطلب پاکستان میں امن ہے، آرمی چیف

افغانستان میں امن کا مطلب پاکستان میں امن ہے، آرمی چیف
کیپشن:    افغانستان میں امن کا مطلب پاکستان میں امن ہے، آرمی چیف سورس:   فائل فوٹو

راولپنڈی: پاک فوج کے سپہ سالار جنرل قمر جاوید باجوہ نے کہا ہے کہ افغانستان میں امن کا مطلب پاکستان میں امن ہے۔ ہمارا مقصد پرامن، خود مختار، جمہوری اور مستحکم افغانستان ہے۔

پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ(آئی ایس پی آر) کے مطابق آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے یہ بات پاکستان میں تعینات افغان سفیر نجیب اللہ علی سے ملاقات کے موقع پر گفتگو کرتے ہوئے کہی۔ دونوں رہنماؤں کے درمیان ملاقات میں باہمی دلچسپی کے امور اور علاقائی سیکیورٹی کی صورتحال پر تبادلہ خیال بھی کیا گیا۔

آئی ایس پی آر کے مطابق افغان سفیر نجیب اللہ علی نے افغان امن عمل کیلئے پاکستان کی کوششوں کو سراہا۔ دونوں برادر ممالک کے درمیان دفاع اور سیکورٹی کے شعبوں میں تعاون بڑھانے پر بھی بات چیت جبکہ افغان امن عمل پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔

خیال رہے کہ گزشتہ ہفتے پاک فوج کے سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ نے امریکی صدر جوزف بائیڈن کی جانب سے افغانستان سے فوجوں کے انخلا کے اعلان کو سراہا ہے۔ پاکستان میں تعینات امریکی ناظم الامور انجیلا اگیلر نے آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ سے اہم ملاقات کی جس میں باہمی دلچسپی کے امور اور علاقائی سیکیورٹی کی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے افغانستان سے ستمبر 21 تک امریکی افواج کے انخلا سے متعلق صدر جوزف بائیڈن کے اعلان کو سراہا۔ خوشحال، مستحکم اور پرامن افغان ہی پاکستان اور خطے کے بہترین مفاد میں ہے۔ امید ہے مستقبل میں پاکستان اور امریکا کے درمیان باہمی تعاون کو فروغ ملے گا۔

واضح رہے کہ گزشتہ روز ترکی کے تاریخی شہر استنبول میں 24 اپریل سے شروع ہونے والی افغان امن کانفرنس مئی کے وسط تک ملتوی کر دی گئی۔

ترک وزیر خارجہ کا مزید کہنا تھا کہ افغان امن کانفرنس عید الفطرتک ملتوی کر دی گئی ہے۔ قطر، امریکا اور اقوام متحدہ سے مشاورت کے بعد افغان امن کانفرنس کو مئی کے وسط تک ملتوی کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ طالبان کو کانفرنس میں شریک کرنے کی کوششیں جاری ہیں۔

ترکی کی میزبانی میں افغان امن کانفرنس دوسری بارملتوی ہوئی ہے، اس سے قبل 16 اپریل کوبلایا گیا اجلاس 24 اپریل تک ملتوی کیا گیا تھا۔

طالبان نے امریکی اور غیرملکی افواج کے افغانستان سے انخلاء سے قبل کسی بھی کانفرنس میں شرکت نہ کرنے کا اعلان کررکھا ہے۔