امریکہ: جج نے عدالت کے باہر حملہ آور کو گولی مار کر ہلاک کر دیا

امریکہ: جج نے عدالت کے باہر حملہ آور کو گولی مار کر ہلاک کر دیا

واشنگٹن: امریکی ریاست اوہائیو میں ایک جج نے بندوق برادر حملہ آور کو گولی مار کر ہلاک کر دیا جس نے عدالت کے باہر ان پر گھات لگا کر حملہ کیا اور انھیں شدید طور پر زخمی کر دیا تھا۔ اوہائیو کے شہر سٹیوبنبیل میں پیر کی صبح جج جوزیف بریزیس جونیئر پر کمرہ عدالت کے باہر متعدد گولیاں چلائی گئیں جس میں وہ شدید زخمی ہو گئے تھے۔ شہر کے شیرف فریڈ ابدالا نے صحافیوں کو بتایا کہ اس تصادم میں حملہ آور نے جج پر پانچ بارگولی چلائی اور جواباً جج نے بھی اتنی ہی بار اس پر بھی فائر کیا اور بالآخر حملہ آور ہلاک ہو گیا ۔


عدالت میں موجود ایک دوسرے افسر نے بھی مشتبہ شخص پر کئی بار فائر کیا۔ جیفرسن کاونٹی کی سرکاری وکیل جین ہینلن نے حملہ آور کی شناخت نتھانیئل رچمنڈ کے طور پر کی ہے لیکن ان کا کہنا تھا کہ یہ نہیں معلوم ہو سکا کہ آخر جج پر حملہ کرنے کی کیا وجہ ہو سکتی ہے۔ نتھانیئل رچمنڈ ہائی سکول کی سطح کے فٹبال کھلاڑی میلک رچمنڈ کے باپ تھے۔

ان کے بیٹے کو 2012 میں ریپ کے ایک مقدے میں قصور وار ٹھہرایا گیا تھا سرکاری وکیل جین کا کہنا ہے کہ جج برزیس کا اس ریپ کیس سے کوئی تعلق نہیں تھا۔ 1998 سے جیفرسن کاونٹی کی عدالت میں جج کے فرائض انجام دینے والے جج بریزیس کو حملے کے فوری بعد ایمرجنسی آپریشن کے لیے جہاز کی مدد سے پٹزبرگ کے ایک ہسپتال میں منتقل کیا گیا۔ سٹیوبینل شہر کے مینیجر کا کہنا ہے جج کا آپریشن ہو چکا ہے اور اب وہ خطرے سے باہر ہیں۔

نیو نیوز کی براہ راست نشریات، پروگرامز اور تازہ ترین اپ ڈیٹس کیلئے ہماری ایپ ڈاؤن لوڈ کریں