سفلی عملیات کرنے والوں کیخلاف بل قومی اسمبلی میں پیش

سفلی عملیات کرنے والوں کیخلاف بل قومی اسمبلی میں پیش

اسلام آباد : پاکستان میں کیونکہ خواندگی کی شرح بہت کم ہے اس لئے یہاں پر جادو ٹونے پر یقین اور ان کا استعمال کرنے والے بہت سے عناصر غریب عوام کا استحصال کر رہے ہیں۔ اسی سلسلہ میں اب سرکاری طورپر بھی عملی اقدامات کر آغاز کر دیا گیا جب آج قومی اسمبلی میں ایک بل پیش کیا گیا ہے جس میں سفلی عملیات کرنے والوں کیخلاف قانون بنانے کی تجویز پیش کی گئی ہے 


مسلم لیگ (ن) کے رہنما چودھری تنویر نے اس سلسلہ میں ایک انٹرویو میں کہا کہ سفلی عملیات کرنے والوں کیخلاف قانون بنانے کا آغاز کر دیا ہے جس کے تحت سفلی عمل کے مرتکب ہوتے افراد کو سزائیں دی جائیں گی ۔ ایسے لوگ جو سفلی عمل کر رہے ہیں لوگوں کو لوٹ رہے ہیں جو قبریں کھود کر عمل کرتے ہیں ان کے لیے سزائیں اور جرمانے تجویز کیے گئے ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ اس حوالے سے کوئی قانون موجود نہیں تھا اور یہ پہلا قانون ہو گا جو بننے جا رہا ہے۔چیئرمین سینیٹ نے یہ بل متعلقہ کمیٹی کے سپرد کرتے ہوئے ہدایت کی ہے کہ اس بارے میں اسلامی نظریاتی کونسل کا نقطہ نظر بھی معلوم کیا جائے۔

اس بل میں کالا جادو کرنے پر دو سے سات سال تک قید اور دو لاکھ روپے تک جرمانے کی سزا تجویز کی گئی ہے جب کہ جادو اور ایسے عملیات کی ہر طرح سے تشہیر پر بھی پابندی کا کہا گیا ہے۔