مذاکرات سے قبل بھارت اپنی فوج ڈوکلام سے نکالے،ترجمان چینی وزارت خارجہ

 مذاکرات سے قبل بھارت اپنی فوج ڈوکلام سے نکالے،ترجمان چینی وزارت خارجہ

نئی دہلی: سرحدی تعطل ختم کرنے کے لیے چین جلد ہی بھارت سے بات چیت شروع کرے گا،  مذاکرات سے قبل بھارت  اپنی فوج ڈوکھلام  سے نکالے۔


غیر ملکی میڈیا کے مطابق بھارتی وزیر داخلہ راج ناتھ سنگھ نے امید ظاہر کی ہے کہ سرحدی تعطل ختم کرنے کے لیے چین جلد ہی بھارت سے بات چیت شروع کرے گا۔ جبکہ چین نے ایک بار پھرواضح کہا ہے کہ کسی بھی طرح اور سطح کے مذاکرات شروع ہونے سے پہلے انڈیا اپنی فوج ڈوکلام سے واپس بلائے۔

راج ناتھ سنگھ نے کہا ہے کہ بھارت چین سے مذاکرات کا حامی ہے اور اس معاملہ سمیت بھارت ہر معاملہ کو بات چیت کے ذریعے حل کرنا چاہتا ہے۔لیکن دوسری جانب چین کی وزارت خارجہ کی ترجمان ہووا چھن اینگ نے بیجنگ میں اس سے متعلق ایک سوال کے جواب میں کہا کہ سکّم کے نزدیک دونوں ملکوں کی سرحدیں بالکل واضح ہیں اور کوئی بھی بات چیت شروع کرنے سے پہلے انڈیا کو اپنے فوجیوں کو عسکری ساز و ساما ن سمیت واپس بلانا ہوگا۔

یاد رہے کہ دونوں ملکوں کے درمیان کشیدگی اس وقت پیدا ہوئی جب گذشتہ جون میں انڈین فوجیوں نے بھوٹان کے ڈوکلام علاقے میں چینی فوجیوں کو سڑک تعمیر کرنے سے روک دیا۔انڈیا کا کہنا ہے کہ یہ علاقہ بھوٹان کا ہے جبکہ چین کا دعوی ہے کہ یہ زمین اس کی ہے۔ اس وقت سے دونوں فوجیں ایک دوسرے کے مد مقابل کھڑی ہیں۔

چین کا کہنا ہے کہ اس معاملے میں کوئی بھی بات چیت تبھی ہوسکتی ہے جب انڈیا کی فوج ڈوکلام علاقے سے اپنی سرحد میں واپس جائے۔کشیدگی کے بعد انڈیا نے اروناچل پردیش اور سکّم میں چین کی سرحد کے نزدیک اپنے فوجیوں کی تعداد بڑھا دی ہے۔ادھر چین سے بھی خبریں موصول ہورہی ہیں کہ چینی فوج نے ڈوکلام میں ٹکراؤ کے مقام سے کچھ ہی دوری پر سینکڑوں خیمے نصب کر دیے ہیں۔

چینی ذرائع ابلاغ سے ملنے والی اطلاعات کے مطابق چینی افواج کی مغربی کمان نے گذشتہ ہفتے کے اواخر میں فوجی مشق کی ہے۔ اس مشق میں چینی فوج کی فضائیہ اور مسلح دستوں سمیت دس یونٹوں نے حصہ لیا۔گذشتہ ہفتے اس معاملہ کو لے کر ہفتے لداح سیکٹر میں دونوں ملکوں کی فوجیوں کے درمیان ٹکراؤ ہوا تھا جس میں فوجیوں نے ایک دوسرے پر پتھراؤ کیا اور مار پیٹ کی تھی۔