سلامتی کونسل کے بیشتر ارکان نے ایران پر پابندیاں بحال کرنے کی مخالفت کر دی

سلامتی کونسل کے بیشتر ارکان نے ایران پر پابندیاں بحال کرنے کی مخالفت کر دی
سلامتی کونسل کے 15 رکن ممالک میں سے 13 نے ایران پر پابندیاں بحال کرنے کی مخالفت کی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فوٹو/ بشکریہ رائٹرز

نیو یارک: اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے بیشتر ارکان نے ایران پر عالمی پابندیاں بحال کرنے کے امریکی مطالبے کی مخالفت کر دی۔امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو نے گزشتہ روز اقوام متحدہ میں ایک خط پیش کیا تھا جس میں ایران پر عالمی پابندیاں بحال کرنے کا مطالبہ کیا گیا تھا۔

غیر ملکی میڈیا کے مطابق ایران پر پابندیاں بحال کرنے کے معاملے پر امریکا کو تنہائی کا سامنا ہے کیونکہ سلامتی کونسل کے 15 رکن ممالک میں سے 13 نے ایران پر پابندیاں بحال کرنے کی مخالفت کی ہے۔

سلامتی کے کونسل کے 13 رکن ممالک نے امریکی خط پر رد عمل میں کہا ہے کہ جس نیو کلیئر ڈیل سے امریکا دو سال قبل دستبردار ہو چکا ہے اس کو استعمال کرتے ہوئے واشنگٹن کا یہ اقدام غیر قانونی ہے۔

غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق امریکا کے اہم اتحادی برطانیہ سمیت فرانس، جرمنی، بیلجیئم، چین، روس، ویتنام، نائجر، جنوبی افریقا، انڈونیشیا اور تنزانیہ نے امریکی اقدام کی مخالفت میں جوابی خط لکھا ہے۔

امریکا نے اپنے خط میں ایران پر الزام عائد کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایران نے عالمی طاقتوں کے ساتھ 2015 کی نیو کلیئر ڈیل کی خلاف ورزی کی جس کے تحت تہران کو ایٹمی ہتھیار بنانے سے روکنا تھا اور اس کے بدلے اسے عالمی پابندیوں میں ریلیف فراہم کیا جانا تھا۔

امریکی اقدام پر سفارتکاروں کا کہنا ہے کہ روس اور چین سمیت دیگر ممالک ایران پر پابندیاں بحال کرنے کے حق میں نہیں ہیں۔

امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو نے ایران پر پابندیوں کی مخالفت کرنے پر روس اور چین کو تنبیہ کرتے ہوئے کہا کہ اگر ایران پر پابندیوں کی مخالفت کی گئی تو امریکا خود ایکشن لے گا۔