عائشہ اکرم کیس، حقائق کیا ہیں؟

Najam Wali Khan, Nai Baat Newspaper, e-paper, Pakistan

یقین کیجئے، میں نے کبھی اپنی رائے اتنی مرتبہ نہیں بدلی جتنی مرتبہ مجھے چودہ اگست پر مینارپاکستان پر ہونے والے عائشہ بیگ کے واقعے پر بدلنی پڑی۔ میرا فوری ردعمل ظلم اور زیادتی کے خلاف تھا۔ میری پہلی ٹوئیٹ لاہور کی طرف سے شرمندہ ہونے اور معافی مانگنے کی تھی مگر اس کے ساتھ ہی سوشل میڈیا پرجھوٹی سچی اطلاعات کا ایک طوفان برپا ہو گیا تھا اور عائشہ بیگ کے دو معروف اینکرز کے ساتھ انٹرویو نے بھی ابہام پیدا کیا جیسے یہ کوئی شہرت حاصل کرنے کی منصوبہ بندی تھی، عائشہ کے ساتھی عامر سہیل المعروف ریمبو کی ایک اینکر کی ٹیم کی شرٹ پہنے تصویر بھی سامنے آ گئی تھی۔ کہا جا رہا تھا کہ عائشہ اکرم نے اپنی ویڈیوز کے ذریعے اپنے فین اور فالورز کو مینارپاکستان آنے کی دعوت دی تھی۔ وہ ان کے ساتھ سیلفیاں اور ویڈیوز بنوا رہی تھی، ان کی طرف فلائنگ کس اچھال رہی تھی کہ وہ سب بے قابو ہو گئے۔کسی شدید محب وطن نے یہ خبر بھی پھیلا دی کہ عائشہ کے پاس انڈیا کا جھنڈا تھا جو اس نے مینار پاکستان پر لہرانے کی جرأت کی اور پاکستانی نوجوان اس پر غصے میں آگئے۔ ایک ویڈیو شئیر ہو رہی تھی جس میں کہا جا رہا تھا کہ وہ بہت جلد ایک سرپرائز دینے والی ہے اور اسے اس واقعے کے ساتھ جوڑا جا رہا تھا۔

میں کسی کے بھی کردار اور ماضی کی گواہی نہیں دے سکتا، ہاں، ایک صحافی کے طور پر الزامات اور دعوؤں کا تجزیہ کر سکتا ہوں، ان کو کاونٹر چیک کر سکتا ہوں اوراس کے بعد جو سچ مجھے ملے وہ آپ کے سامنے رکھ سکتا ہوں۔ میں نے کہا کہ میں نے اس پر ایک بار سے زیادہ موقف بدلے اور خود میری بہن نے مجھ سے شکوہ کیا کہ وہ میری تحقیق پر اپنی رائے بناتی ہے اور میں اپنی رائے بدلتا جا رہا ہوں۔ میرا جواب تھا کہ میں کسی واقعے پر فوری ردعمل دیتا ہوں مگر جوں جوں حقائق سامنے آتے جائیں میرے لئے یہ ممکن نہیں ہوتا کہ میں اپنی پرانی رائے پر قائم رہوں، یہاں ایک صحافی اور ایک انویسٹی گیشن آفیسر ایک جیسا ہوجاتا ہے کہ وہ ایک مدعی کی طرف سے ایف آئی آر کاٹتا ہے، بعد میں مدعی ہی مشکوک ہوجاتا ہے اور جب تفتیش مکمل ہوتی ہے تو علم ہوتا ہے کہ یہ سازش ہی کچھ اور تھی۔

مطلب کی طرف آتے ہیں، میں نے یہ سب سوالات عائشہ بیگ کے سامنے رکھے جو اپنے وکیل سردار اویس عباسی اور اپنے ساتھی ریمبو کے ساتھ ’نیوز نائیٹ‘ کے سٹوڈیوز میں موجود تھی۔ عائشہ اکرم نے جواب میں چیلنج دیا کہ اس کی ایک بھی ویڈیو سامنے لائی جائے جس میں ا س نے فین یا فالورز کو مینار پاکستان آنے کی دعوت دی ہو، ’میٹ اپ‘ کے لئے بلانے کا الزام سوفیصد غلط ہے۔ میں عائشہ کی بات سے اتفاق کرتے ہوئے اس سے بھی آگے بڑھ گیا کہ اگر فین اور فالورز کو بلایا بھی گیا ہو تواس کا مطلب یہ نہیں کہ انہیں حملہ کرنے، تشدد کرنے، کپڑے پھاڑ دینے کی اجازت دی گئی ہے۔ میں نے عائشہ سے ایک یوٹیوب چینل کو تیرہ اگست کے اس انٹرویو بارے پوچھا جس میں جلد سرپرائز دینے کا دعویٰ کیا گیا تھا تو جواب ملا کہ یہ تقریبا ایک مہینہ پرانا انٹرویو ہے جس میں وہ اپنے پہلے گانے ’وے جھوٹیا‘ کی ریلیز بارے بتا رہی ہیں،ان کا خیال تھا کہ وہ محرم الحرام سے پہلے اسے ریلیز کریں گی مگر وہ ریلیز نہ ہوسکا، اس کا اس سانحے کے ساتھ کوئی تعلق نہیں ہے۔ میں نے کہا کہ آپ کی ڈریسنگ اچھی نہیں ہوتی اور آپ پر الزام ہے کہ آپ ہوائی بوسے بھی اچھال رہی تھیں تو جواب ملا کہ انہوں نے سبز رنگ کی شلوار قمیض پہن رکھی تھی جو قومی لباس ہے۔ یوں بھی اس وقت جینز وغیرہ لڑکیوں کے عمومی استعمال میں ہے، آپ غیر اخلاقی تو اسے بھی نہیں کہہ سکتے۔ ہوائی بوسوں کے الزام کو انڈین جھنڈے کے الزام کے ساتھ جوڑ کر دیکھا جائے تو اس کی بھی کوئی ویڈیو نہیں ملتی، یہ محض الزامات ہیں جو اپنے موقف کا رنگ جمانے کے لئے لگائے گئے۔ عائشہ بیگ نے چیلنج دیا کہ اگر اس کا انڈین فلیگ پکڑنے کا الزام ثابت ہوجائے تو وہ اس پاکستان کو چھوڑ دیں گی وہ خود کو جس کی بیٹی کہتی ہیں۔ردا نور ایڈووکیٹ نے عائشہ سے سوال کیا کہ انہوں نے مزاحمت کیوں نہیں کی، عائشہ کا کہنا تھا کہ وہ مارشل آرٹس جانتی ہیں، دس، بارہ بندوں سے مقابلہ کوئی بات ہی نہیں، وہ ریمبو کو بھی سٹنٹس سکھاتی رہی ہے مگر وہاں سینکڑوں لوگ تھے جو ان کے کپڑے اتار رہے تھے، اسے نوچ رہے تھے، ایک ایک بازو پر بیس بیس ہاتھ تھے اور پھر ایک وقت آیا کہ اس کے بدن کو چھپانے کے لئے صرف اس کے بال ہی باقی بچے تھے۔۔۔ اب میں اسے کیا جواز دوں؟

بہت سارے لوگ یہ کہتے ہیں کہ ٹک ٹاک ہی بند کر دیا جائے، عائشہ بیگ بھی یہی کہتی ہے مگر میرا سوال یہ ہے کہ کیا آپ ٹیکنالوجی کا راستہ روک سکتے ہیں۔ ٹک ٹاک تو بہت مرتبہ بندہوچکا۔ فیس بک، انسٹا گرام،سنیک اور یوٹیوب کی شارٹ ویڈیوز میں بھی یہی کچھ ہے تو آپ کس کس کو بند کریں گے۔ کیا آپ اس سے پہلے ٹی وی، وی سی آر، فون اور انٹرنیٹ کا راستہ روک سکے ہیں، ہرگز نہیں۔ میں جانتا ہوں کہ بہت سارے قارئین وہ تمام ویڈیوز نہیں دیکھ سکے ہوں گے جو اس وقت بنیں۔ وہ انتہائی حد تک شرمناک ہیں جو مجھے ڈی جے بٹ نے بھیجی ہیں۔میں نے یہ بھی پوچھا کہ یہ سب کچھ ریمبو نے پلاننگ کی اورآپ کا ریمبو کے ساتھ کیا رشتہ ہے۔ جواب ملا، ریمبو ان کے ساتھ اڑھائی برس سے ہے اور چھوٹے بھائیوں کی طرح ہے، وہ یہ سب کیوں کرے گا۔ میرا سوال ان کے ساتھ ویڈیوز کے حوالے سے تھا تو جواب تھا کہ ریمبو اگرچہ ایک بہت غریب خاندان سے ہے اورپڑھنا لکھنا بھی نہیں جانتا مگر وہ بہت ٹیلنٹڈ ہے۔ان کا موقف تھا کہ ویڈیوز میں ان کا رویہ اور سٹائل وائرل ویڈیوز کی ڈیمانڈ کے مطابق ہوتا ہے جیسے ان کی کئی فنی ویڈیوز بہت وائرل ہوئیں اور ایک، ایک ملین تک ویوز آئے۔

میں نے جانا اور سمجھا کہ اختلاف اور اعتراض تو دس ہزار ہو سکتے ہیں مگر حقیقت تو یہ ہے کہ اس لڑکی کے ساتھ واقعی بڑا ظلم ہوا ہے ۔ لاہور کے مردوں کا ایک کالا اور گندا چہرہ سامنے آیا ہے۔ ہمارے سماجی چہرے پر بدترین کالک ملنے والے ان درندوں کو سخت ترین سزا ملنی چاہئیے کہ مینار پاکستان ہو یا کوئی بھی مقام، وہ لونڈوں لفنگوں اور اوباشوں کے باپ کی جاگیر نہیں ہے۔ کوئی ٹک ٹاکر ہو یا اداکار،ہر کسی کو مینار پاکستان سمیت ہر جگہ جانے کا حق حاصل ہے۔ میں ان لوگوں کی بھی مذمت کرتا ہوں جنہوں نے بہت سارے جھوٹ ایسے بولے جیسے وہ کوئی جہاد کر رہے ہوں، ثواب کما رہے ہوں۔ چاہے کوئی جتنا بھی نیک، باکردار اور محب وطن کیوں نہ ہو اسے جھوٹ پھیلانے اور کسی عائشہ کے کپڑے اتارنے، اسے نوچنے اور بھنبھوڑنے کا کوئی حق نہیں ہے۔