میری شدید خواہش کے باجود میرا شوہر ۔۔۔۔۔ خاتون کا بیان سن کر جج نے بھی سر پکڑ کر بیٹھ گیا

میری شدید خواہش کے باجود میرا شوہر ۔۔۔۔۔ خاتون کا بیان سن کر جج نے بھی سر پکڑ کر بیٹھ گیا

ابوجہ : گھریلو جھگڑوں کا عدالت تک پہنچ جانا کوئی انوکھی بات نہیں ہے لیکن نائیجیریا کی ایک عدالت میں ایسا مقدمہ آگیا کہ بیچارے جج صاحب بھی سر پکڑ کر بیٹھ گئے۔


نیوز ایجنسی آف نائیجیریا کی رپورٹ کے مطابق ایک نوجوان خاتون شریفہ اسمیو نے عدالت سے استدعا کی کہ اس کا شوہر ازدواجی فرائض ادا نہیں کررہا، لہٰذا اسے حکم دیا جائے کہ وہ اپنا فریضہ پورا کرے یا دوسری صورت میں طلاق دے دے۔

جب عدالت کی جانب سے شوہر سعید اسمیو کو طلب کیا گیا تو اس نے اپنی صفائی میں ایسی بات کہہ دی جو عدالت نے اس سے پہلے کبھی نہیں سنی تھی۔ سعید اسمیو کا کہنا تھا کہ اس نے ازدواجی فرائض کی ادائیگی کی ہڑتال کررکھی ہے اور جب تک اس کے مطالبات تسلیم نہیں ہوتے وہ ہڑتال پر رہے گا۔

اس کا کہنا تھا کہ اس کی اہلیہ فرمانبردار نہیں اور اجازت کے بغیر ناپسندیدہ لوگوں سے میل جول رکھتی ہے۔اس نے مزید کہا کہ اہلیہ اپنا رویہ درست کرلے تو وہ ہڑتال ختم کردے گا۔

دوسری جانب خاتون کا کہنا تھا کہ اس پر لگائے گئے الزامات بے بنیاد ہیں۔ خاتون نے عدالت کو واضح الفاظ میں بتایا کہ اس کے خاوند کی ہڑتال اب اس کی برداشت سے باہر ہے لہٰذا اگر وہ ہڑتال ختم کرنے پر تیار نہیں تو اسے طلاق دلوادی جائے۔

عدالت نے جب خاوند سے استفسار کیا تو اس کا کہنا تھا کہ اس کی اہلیہ اب بھی حقائق کو تسلیم کرنے پر تیار نہیں ہے لہٰذا وہ ہڑتال ختم نہیں کرے گا۔ یہ مﺅقف سننے کے بعد عدالت نے طلاق کا حکم جاری کردیا۔