بھارت میں اسکول کی فیس ایک درخت

بھارتی ریاست چھتیس گڑھ کے ایک گاؤں میں قائم اس پرائیویٹ اسکول میں پڑھنے والے بچوں سے کوئی فیس نہیں لی جاتی بلکہ ان کے والدین سے کہا جاتا ہے کہ وہ ایک پودا لگائیں اور درخت بننے تک اس کی دیکھ بھال کرتے رہیں۔

بھارت میں اسکول کی فیس ایک درخت

نئی دلی: بھارتی ریاست چھتیس گڑھ کے ایک گاؤں میں قائم اس پرائیویٹ اسکول میں پڑھنے والے بچوں سے کوئی فیس نہیں لی جاتی بلکہ ان کے والدین سے کہا جاتا ہے کہ وہ ایک پودا لگائیں اور درخت بننے تک اس کی دیکھ بھال کرتے رہیں۔


شکشا کوتیر نامی یہ پرائمری اسکول چھتیس گڑھ کے شہر امبیکا پور کے ایک نواحی گاؤں میں واقع ہے جسے مقامی تاجروں اور کاروباری حضرات نے اپنی مدد آپ کے تحت قائم کیا ہے اور وہی اس کے تمام اخراجات بھی برداشت کررہے ہیں۔

گاؤں میں انتہائی غربت کی وجہ سے بیشتر والدین اپنے بچوں کی اسکول فیس ادا نہیں کرسکتے اس لیے اسکول قائم کرنے والوں نے فیصلہ کیا کہ کوئی فیس نہ لی جائے بلکہ یہاں داخلہ لینے والے ہر بچے کے والدین کو پابند کیا جائے کہ وہ گاؤں میں کہیں پر بھی ایک پودا لگائیں اور تب تک اس کی دیکھ بھال کرتے رہیں کہ جب تک ان کا بچہ یہاں سے اپنی پرائمری تعلیم مکمل نہ کرلے۔ اگر اس دوران کسی وجہ سے پودا مرجائے تو والدین کو اس کی جگہ دوسرا پودا لگانا ہوگا۔

اس اسکول میں نئے داخل ہونے والے کم از کم 35 بچے ایسے ہیں جن کی عمریں 4 سے 5 سال ہیں جب کہ اس اقدام سے متاثر ہوکر پچھلے ایک سال کے دوران اسی گاؤں میں 700 سے زیادہ نئے پودے لگائے جاچکے ہیں جو ایک امید افزا بات ہے۔ اسکول انتظامیہ کا کہنا ہے کہ اس حکمتِ عملی سے جہاں غریب بچوں کو مفت تعلیم مل رہی ہے وہیں بچوں کے والدین عزتِ نفس کے ساتھ ایک اچھے کام میں شریک ہوجاتے ہیں جب کہ نئے درختوں کی بدولت ماحول کو پہنچنے والا فائدہ ان سب کے علاوہ ہے۔

 بھارت میں تعلیم مسلسل مہنگی سے مہنگی ہوتی جارہی ہے اور سرکاری اسکولوں میں تعلیم کا معیار بھی روز بروز گرتا جارہا ہے کیونکہ بھارتی حکومت اپنے سالانہ بجٹ میں تعلیم کے لیے بہت ہی کم رقم مختص کرتی ہے۔