ریسرچ کرنے والے طالب علموں کیلئے خوشخبری، پانچ کروڑ روپے حاصل کرنے کا موقع

ریسرچ کرنے والے طالب علموں کیلئے خوشخبری، پانچ کروڑ روپے حاصل کرنے کا موقع

لاہور : پاکستان میں ریسرچ کرنے والے طالب علموں کیلئے خوشخبری ہے کہ پاکستان اور امریکہ نے سائنس اینڈ ٹیکنالوجی میں تعاون کا پروگرام متعارف کرا دیا ہے جس کے تحت طالب علم اپنی ریسرچ کیلئے پانچ کروڑ روپے کا فنڈ حاصل کر سکتے ہیں۔تفصیلات کے مطابق امریکہ میں نیشنل اکیڈمی آف سائنس (این اے ایس) کے تحت چلنے والا یہ پروگرام پاکستان میں ہائیر ایجوکیشن کمیشن (ایچ ای سی) کے تحت چلے گا۔ اس پروگرام کا مقصد پاکستانی سائنسدانوں اور سائنسی اداروں کا امریکی سائنسدانوں اور اداروں کیساتھ تعاون کو بڑھانا ہے۔ نیشنل اکیڈمی آف سائنس میں پاک، امریکہ سائنس اینڈ ٹیکنالوجی تعاون پروگرام ڈویلپمنٹ، سیکیورٹی اور بین الاقوامی تعلقات ڈویژن کے زیر انتظام ہے۔ پاک، امریکہ مشترکہ ریسرچ فنڈز کیلئے ایک سے تین سال کیلئے پروپوزل کی وصولی شروع کر دی گئی ہے اور پروپوزل جمع کرانے کی آخری تاریخ 13 جنوری 2017ءبروز جمعہ ہے۔ اس پروگرام کے تحت فنڈ حاصل کرنے کیلئے پیش کئے جانے والے پراجیکٹ کا پاکستان میں تحقیقی صلاحیت میں اضافے اور پاک، امریکہ باہمی تعلقات میں مندرجہ ذیل کردار ہونا چاہئے۔


1:۔ پاکستان میں معاشی اور انسانی ترقی میں تیزی لانے کیلئے سائنس اور ٹیکنالوجی کے شعبے کی صلاحیت کو بڑھا سکے۔

2:۔ ہائیر ایجوکیشن کمیشن کے تحت تعلیمی اداروں کے سائنس اور تکنیکی شعبوں میں تعلیم ، تحقیق، معیار اور مطابقت میں اضافہ کر سکے۔

3:۔ صنعتی شعبے میں جاری مقابلے میں تعاون کیلئے پاکستانی تحقیقی اداروں کی صلاحیت میں اضافہ کر سکے۔

اس پروگرام کے تحت بہت سے شعبوں سے متعلق پراجیکٹ کے پروپوزل قبول کئے جا رہے ہیں جن میں مندرجہ ذیل شعبے شامل ہیں۔

صحت اور سیکیورٹی

تعلیم

صحت، صحت عامہ اور ادویات

غذائیت

پانی اور صفائی

زراعت

ماحولیاتی ، موسمیاتی تبدیلی اور حیاتی ماحول میں تنوع

توانائی اور قابل تجدید توانائی

سوشل سائنسنز

اقصادی ترقی

جمہوریت اور گورننس

خوراک کی سیکیورٹی

واضح رہے کہ سال 2003ءمیں پاکستان اور امریکہ کے درمیان سائنس اور ٹیکنالوجی میں تعاون کا ایک وسیع معاہدہ ہوا تھا جس میں دونوں ممالک میں سائنس اور تعلیم کے شعبوں کے درمیان سائنس، ٹیکنالوجی، انجینئرنگ اور تعلیم میں مشترکہ مفادات کیلئے باہمی تعاون کا ایک فریم ورک تیار کیا گیا تھا۔سال 2005ءمیں بین الاقوامی ترقی کے امریکی ادارے (USAID) نے پاک، امریکہ سائنس و ٹیکنالوجی پروگرام کی حمایت کیلئے وزارت سائنس و ٹیکنالوجی اور ہائیر ایجوکیشن کمیشن کیساتھ شمولیت اختیار کی۔ 2008ءمیں امریکہ کے سٹیٹ ڈیپارٹمنٹ نے کو سپانسر کے طور پر اس پروگرام میں شمولیت اختیار کی۔