خطے میں کسی اور ملک میں دھرنے نہیں ہوتے: احسن اقبال

 خطے میں کسی اور ملک میں دھرنے نہیں ہوتے: احسن اقبال

وزیر داخلہ احسن اقبال کہتے ہیں خطے میں کسی اور ملک میں دھرنے نہیں ہوتے .نہ بھارت میں دھرنے ہوتے ہیں اور  نہ بنگلادیش میں دھرنے ہوتے ہیں وہاں معیشت میں ترقی کا مقابلہ ہوتا ہے ۔ سیاسی جماعتیں بھی دھرنوں کی سیاست چھوڑیں ترقی کی سیاست شروع کریں ۔


ھرپارکر میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے احسن اقبال نے کہا کہ آج ہم معیشت کے مقابلے میں داخل ہوچکے ہیں، ہمیں خطے میں بھارت اور دیگر معیشتوں سے مقابلہ کرنا ہے، ہمیں ایک دوسرے سے دھرنوں میں مقابلہ نہیں کرنا، آج خطے میں کسی ملک میں دھرنے نہیں دیئے جارہے ہے، وہاں پر معیشت پر زور دیا جارہا ہے، اس لیے اپوزیشن سے کہتا ہوں کہ دھرنوں کی سیاست کو چھوڑیں اور ملک کی تعمیر و ترقی کے لیے تعاون کے راستے پر چلیں۔

انہوں نے کہا کہ کامیابیوں کے لیے ٹانگیں کھینچنے کی سیاست کی بجائے تعاون کی سیاست پر عمل کرنا چاہیے، قومیں انتشار اور کھینچا تانی سے ترقی نہیں کرتیں، اتفاق، تعاون اور یکجہتی سے ترقی کرتی ہیں۔

وزیر داخلہ کا کہنا تھا کہ ہم نے اپنے اندر اتنی طاقت پیدا کرنی ہے کوئی ہمیں شکست نہ دے سکے۔ آج سی پیک ایک حقیقت بن چکا ہے۔ پاکستان توانائی میں خود کفالت حاصل کررہا ہے، 2013 میں جہاں 20 گھنٹے بجلی نہیں آتی تھی اب وہاں بجلی آرہی ہے اور بہت جلد 24 گھنٹے بجلی ہوگی۔