2017 میں صحرائے تھر میں 445 بچے جان کی بازی ہار گئے

2017 میں صحرائے تھر میں 445 بچے جان کی بازی ہار گئے

کراچی:حکومتی دعوؤں کے باوجود صحرائے تھر میں غذائیت کی کمی اور دیگر امراض کے سبب مرنے والے بچوں کی تعداد میں کمی نہ آسکی،2017کاسال بھی 445بچوں کی جانیں لے گیا ۔


تفصیلات کے مطابق محکمہ صحت تھرپارکر کے اعدادوشمار کے مطابق سال2017 میں سول ہسپتال مٹھی سمیت ضلع کے سرکاری ہسپتالوں میں غذائیت کی کمی قبل از وقت پیدائش اور دیگرامراض کے سبب پانچ سال کی عمرسے کم کے445 بچے جاں بحق ہوئیہیں ، سال 2014 میں 326، 2015میں398اورسال2016 میں 479 بچے جاں بحق ہوئے۔

المیہ یہ بھی ہے کہ ضلع کے سرکاری ہسپتالوں میں ڈاکٹروں کی220آسامیاں خالی ہیں ماسوائے سول ہسپتال کے ضلع کے کسی بھی سرکاری ہ سپتال میں کوئی گائناکالوجسٹ نہیں جبکہ تحصیل ہسپتالوں میں بھی صرف ایک ایک لیڈی ڈاکٹرز تعینات ہیں۔سندھ حکومت کی جانب سے فراہم کردہ گشتی موبائل یونٹس کی کارکردگی بھی سوالیہ نشان ہے جبکہ دیہی علاقوں میں دوسوسے زائدڈسپنسریاں بند پڑی ہیں۔