کورونا کی نئی قسم ’اومیکرون‘ کی پانچ اہم علامات

کورونا کی نئی قسم ’اومیکرون‘ کی پانچ اہم علامات

لندن: کورونا وائرس کے دنیا بھر میں تیزی سے پھیلنے والے نئے ویرئینٹ   ’اومیکرون‘کی پانچ اہم علامات سامنے آگئیں۔

برطانیہ میں ہونے والی زیڈ او ای سمپٹم ٹرینکنگ اسٹڈی کے مطابق  اومیکرون ویریئنٹ کا شکار ہونے کی پانچ سب سے اہم علامات میں ناک مسلسل بہنا، سر میں درد رہنا، مستقل تھکن کا احساس، چھینکوں کا  آتے رہنا اور گلے کی خراش شامل ہیں۔طبی ماہرین کا ماننا ہے کہ کورونا کے نئے ویرینٹ کی علامات پہلے آنے والی اقسام سے مختلف ہیں جن میں سونگھنے اور چکھنے کی حس ختم ہوجانا اور گلے کی خرابی اور کھانی اہم ترین علامات تھیں۔تاہم طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ اومیکرون سے محفوظ رہنے کی احتیاطی تدابیر میں کوئی فرق نہیں اور یہ بالکل ویسے ہی ہیں جیسا پچھلے وائرس کیخلاف اپناتے آئے ہیں یعنی سماجی فاصلہ، سینیٹائزر کا استعمال، ہاتھوں کو دھونا اور ماسک کا باقاعدہ استعمال کرنا۔

دوسری جانب برطانیہ میں ہی کورونا وائرس کے نئے ویرینٹ اومیکرون سے متعلق امپیریل کالج لندن کی ایک  اسٹڈی میں یہ خطرناک پہلو  بھی سامنے آئے ہیں جس نے طبی ماہرین کو بھی تشویش میں مبتلا کیے رکھا دیا ہے۔جس  کے مطابق  ڈیلٹا ویرئینٹ کے مقابلے میں اومیکرون  کے شکار افراد کا دوبارہ اس انفیکشن میں مبتلا ہونے کے   امکانات پانچ گنا زیادہ ہیں جبکہ ایسا بھی کوئی ثبوت نہیں ملا جس کے تحت کہا جا سکے کہ نئی قسم اومیکرون کی شدت  ڈیلٹاکے مقابلے میں قدرے کم  ہے۔امپیریل کالج لندن  کی اسٹڈی کے نتائج برطانیہ کی ہیلتھ سیکیورٹی ایجنسی اور نیشنل ہیلتھ سروس کے اعداد و شمار پر مبنی  ہیں ۔

واضح رہے کہ کورونا کی نئی قسم  اومی کرون اب تک دنیا کے 90 سے زائد ممالک تک پھیل چکی ہے۔  عالمی ادارہ صحت نے بھی گزشتہ دنوں  ایسے تمام ممالک کو خبردار کرتے ہوئے کہا کہ کورونا وائرس کی نئی قسم ’’اومی کرون‘‘دنیا بھر میں غیر معمولی رفتار سے پھیل رہی ہے جس کا پھیلاؤ روکنے کیلئے  پہلے کی طرح  حفاظت کیلئے تمام احتیاطی تدابیر اختیار کریں۔عالمی ادارہ صحت نے ایسے تمام افراد کو تلقین کرتے ہوئے کہا کہ جن افراد نے ابھی ویکسین نہیں لگوائی وہ ویکسین لگوا لیں اور ایسے تمام افراد جنہوں نے ایک ڈوز لگوائی اور دوسری ابھی تک نہیں لگوائی وہ ضرور اپنی دوسری ڈوز کو مکمل کر لیں ۔

 دوسری جانب اومی کرون کی تصدیق کے بعد سے متعدد ممالک نے فضائی سفر کی پابندیاں نافذ کر رکھی ہیں ، کئی  ممالک کوروناکے نئے ویرنٹ سے بچنے کیلئے اضافی ڈوز مطلب بوسٹر بھی لگا رہے ہیں تاکہ زیادہ سے زیادہ حفاظت کی جا سکے ۔تاہم اس کے باوجود اومیکرون کے پھیلاؤ میں ہر گزرتے دن کیساتھ اضافہ ہوتا چلا جا رہا ہے جبکہ اب تک یورپی ممالک کو رونا کی اس نئی قسم سے سب سے زیادہ متاثر ہوئے ہیں۔

مصنف کے بارے میں