آئی پی ایل کی کمائی سے خاندان کا قرض اتاریں گے, نئے کھلاڑیوں کا عزم

آئی پی ایل کی کمائی سے خاندان کا قرض اتاریں گے, نئے کھلاڑیوں کا عزم

نئی دہلی: انڈین پریمیئر لیگ(آئی پی ایل) کے 10 ایڈیشن کی نیلامی میں جہاں ایشانت شرما اور عرفان پٹھان جیسے کھلاڑیوں کو لینے کے لیے کوئی تیار نہیں ہوا وہیں تمل ناڈو اور تلنگانہ کے دو نوجوان کھلاڑیوں پر قسمت مہربان نظر آئی۔رواں سال آئی پی ایل میں شامل نوجوان پلیئرز کا کہنا ہے کہ آئی پی ایل سے حاصل ہونے والی کمائی سے اپنے خاندان کاقرض اتاریں گے۔کنگز الیون پنجاب کی ٹیم میں شامل نٹراجن نے آئی پی ایل میں شامل کیے جانے پر خوشی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ کبھی سوچا بھی نہیں تھا کہ آئی پی ایل میں کھیلنے کا موقع ملے گا۔ کنگز الیون پنجاب میں شمولیت پرمیں اورمیرے والدین بہت خوش ہیں ۔ سن رائزرز حیدرآباد کی ٹیم میں شامل سراج نے کہا کہ اب میرے والد اب آٹو رشا نہیں چلائیں گے۔ وہ اب گھر میں ہی رہیں گے۔ سن رائزرز حیدرآباد نے سراج کی 2 کروڑ 60 لاکھ روپے میںان کی خدمات حاصل کیں جبکہ کنگز الیون پنجاب نے نٹراجن کوتین کروڑ روپے میں خریدا۔


ان خیالات کااظہار دونوں کھلاڑیوں نے برطانوی نشریاتی ادارے سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔کنگز الیون پنجاب کے نٹراجن کا کہنا تھا کہ میں نے کبھی یہ سوچا بھی نہیں تھا کہ آئی پی ایل میں کھیل سکوں گا۔میں بہت خوش ہوں۔ میرے ماں باپ بھی بہت خوش ہیں لیکن میں کرکٹ کے بارے میں پوری معلومات نہیں رکھتا۔ انہوں نے کہا کہ تمل ناڈو کرکٹ ایسوسی ایشن لیگ کے ٹورنامنٹوں کے لیے منتخب ہونے کے بعد ہی میرے لیے باقاعدگی سے آمدنی کا انتظام ہو ا۔نٹراجن کا مزید کہنا تھا کہ میں گذشتہ چھ سال سے کرکٹ کھیل رہا ہوں اور گذشتہ تین سالوں میں ''سن مار یمپلاسٹ ''سے مجھے باقاعدہ تنخواہ مل رہی ہے۔ کالج میں میرا داخلہ سپورٹس کوٹے کے تحت ہوا اس لیے مجھے فیس نہیں دینی پڑتی ہے۔نٹراجن کی طرح ہی سراج بھی اپنے مقروض والد کا قرض ادا کرنا چاہتے ہیں۔ سراج کو ان کے ہوم ٹائون کی ٹیم سن رائزرز حیدرآباد نے خریدا ہے۔ان کی کم سے کم قیمت 20 لاکھ روپے رکھی گئی تھی لیکن حیدرآباد نے اس سے 13 گنا زیادہ یعنی 2 کروڑ 60 لاکھ روپے کی بولی لگائی اور ان کی خدمات حاصل کی۔

سراج کا کہنا تھا کہ ان کی ماں اس بات سے ناخوش تھیں کہ میں نے اپنے بڑے بھائی کی طرح پڑھائی نہیں کی۔سراج تین سال پہلے تک صرف ٹینس گیند سے کھیلتے تھے اور کرکٹ باضابطہ گیند سے کھیلنا نصیب نہیں ہوا تھا۔دونوں نوجوان کھلاڑیوں میں ایک بات قدرے مشترک ہے کہ وہ اپنے والدین کا بے حد احترام کرتے ہیں اور انھیں اپنے خاندان کی فلاح و بہبود کا بہت خیال ہے۔دونوں کا کہنا ہے کہ وہ اپنے والدین کی زندگی کو بہتر بنائیں گے۔ سراج کا مزید کہنا تھا کہ میرے والد اب آٹو رشا نہیں چلائیں گے۔ وہ اب گھر میں ہی رہیں گے۔تمل ناڈو کے تھنگاراسو نٹراجن اور تلنگانہ کے محمد سراج دونوں کی بولی ڈھائی کروڑ روپے سے زیادہ لگی اور ان دونوں کا تعلق بھارت کی جنوبی ریاستوں سے ہے۔ریاست تمل ناڈو میں سلیم ضلع سے تقریبا 40 کلومیٹر کے فاصلے پر نٹراجن کا گائوں ہے۔ ان کے والد ایک پاور لوم یونٹ میں روزانہ کی اجرت پر کام کرنے والے مزدور ہیں اور ان کی ماں ایک چکن کی دکان میں کام کرتی ہیں۔حال میں وجود میں آنے والی ریاست تیلنگانہ کے محمد سراج کی کہانی بھی کچھ ایسی ہی ہے۔ حیدرآباد میں سراج کے والد آٹو رشا چلاتے ہیں۔ سراج کی ماں سال بھر پہلے تک دوسرے گھروں میں کام کرتی تھیں۔لیفٹ منی کے نام سے مشہور نٹراجن کو ان کی بولنگ کے لیے کنگز الیون پنجاب کی ٹیم نے خریدا ہے۔ انھیں حاصل کرنے کے لیے آئی پی ایل کی اہم ٹیموں نے بولی لگائی اور آخر کار نٹراجن تین کروڑ روپے میں فروخت ہوئے۔