ہر پاکستانی ہمارا سپاہی،قوم کو مایوس نہیں کریں گے ،آخری گولی اور آخری سانس تک لڑیں گے:ترجمان پاک فوج

 ہر پاکستانی ہمارا سپاہی،قوم کو مایوس نہیں کریں گے ،آخری گولی اور آخری سانس تک لڑیں گے:ترجمان پاک فوج
نیو نیوز سکرین گریب

راولپنڈی:میجر جنرل آصف غفور نے بھارتی دھمکیوں پر ردعمل دیتے ہوئے مودی سرکار پر واضح کیا کہ جنگ اور بدلے کی دھمکی بھارت کی طرف سے آئی ہے،آپ ہمیں حیران نہیں کرسکتے ہم آپ کو حیران کریں گے،اس بار فوجی ردعمل مختلف قسم کا ہوگا،امید کرتا ہوں پاکستان کی طرف سے آپ کو پیغام مل گیا ہوگا،ہمارا واضح پیغام ہے کہ بری نظر سے دیکھنے کا سوچو بھی نہ،پاکستان کی فوج صرف وہ فوج نہیں ہے جو صرف یونیفارم پہنتی ہے،ہر پاکستانی ہمارا سپاہی ہے جبکہ قوم کو مایوس نہیں کریں گے ،آخری گولی اور آخری سانس تک جنگ لڑیں گے۔موت کا خوف اترجائے تو اس کا کوئی حل نہیں ہوتا ،ستر سال سےکشمیری تشدد کاسامنا کررہے ہیں انکاموت کاخوف زائل ہوگیا ہے۔


پاک فوج کے ترجمان میجر جنرل آصف غفور نے کہا ہے کہ ایک چوتھائی بات کرتا ہوں اور تین چوتھائی سوال لیتا ہوں,زیادہ تر بات چیت پلوامہ واقعے پر ہوگی،کشمیری نوجوان نے بھارتی فوج کو نشانہ بنایا اور الزامات کی بارش پاکستان پر ہوگئی،بھارت بغیر تحقیقات پاکستان پر الزام لگا دیتا ہے،وزیراعظم پاکستان نے بھارت کو الزامات کا جواب دیا,64فیصد آبادی نوجوان ہے جبکہ نوجوان نسل کو ہدف بنایاجارہا ہے۔

تفصیلات کے مطابق پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر ) کے ڈی جی میجر جنرل آصف غفور نے میڈیا بریفنگ دیتے ہوئے پلوامہ حملے پر بات کرتے ہوئے کہا کہپاکستان نے جواب دینے میں تھوڑا وقت لیا ہے،واقعے کےفوری بعدبھارت نےپاکستان پرالزامات کی بارش کردی،پاکستان نےاپنےطورپرواقعے کی تحقیقات کیں،اس کے بعد وزیراعظم نےاپنا بیان جاری کیا،1947 میں پاکستان آزادہوا،اس حقیقت کوبھارت آج تک تسلیم نہیں کرسکا،1965 میں ایل او سی پرکشیدگی ہوئی،بھارت اسےبارڈرپرلےآیا،65 کی جنگ کےہمارےملک پراثرات ہوئے،بھارت نےکشمیر پر حملہ بھی کیا اور 70سالوں سے کشمیر پر قابض ہے۔

ترجمان پاک فوج نے کہا کہ بھارت نے ہمیشہ پاکستان کے خلاف سازشیں کی،پاکستان میں حالات بہتر ہوں تو بھارت انہیں خراب کرنیکی کوشش کرتا ہے،اس وقت بھارت اپنی افواج کوبارڈر پرلےآیا،سائبر وار چل رہی ہے جسے ہائبرڈ وار بھی کہا جاتا ہے،2008 میں ہم دہشتگردی کیخلاف بھرپورجنگ لڑرہےتھےاوربھر پور کامیابیاں مل رہی تھیں،پاکستان نےبھارت کوہمیشہ امن کی پیش کش کی،2جنوری 2016 میں پٹھان کوٹ کاواقعہ ہوا ،1971 میں پاکستان کو دولخت کیا گیا ، 1998میں ہم نے جوہری طاقت اپنے دفاع کیلیے حاصل کی،2008میں ہمیں کامیابیاں مل رہی تھیں کہ بھارت اپنی فوجیں سرحد پر لےآیا،2001میں انٹرنیشنل فورسز نے طالبان کیخلاف افغانستان میں کارروائی شروع کی۔

ڈی جی آئی ایس پی آر نے مزید کہا کہ پاکستان میں کوئی اہم ایونٹ ہوناہویاملک مستحکم ہورہا ہوتومقبوضہ کشمیر یابھارت میں کوئی ایسا واقعہ ہوجاتاہے،71 سے 1984 تک مشرقی سرحد پر کوئی واقعہ نہیں ہوا، ممبئی حملے کےوقت بھی بھارت میں عام انتخابات ہونے تھے،سعودی ولی عہد کاپاکستان کا دورہ تھا،کانفرنس ہورہی تھی ،ممبئی حملے کےوقت بھی بھارت میں عام انتخابات ہونے تھے,71 سے 1984 تک مشرقی سرحد پر کوئی واقعہ نہیں ہوا,پاکستان میں کوئی اہم ایونٹ ہوناہویاملک مستحکم ہورہا ہوتومقبوضہ کشمیر یابھارت میں کوئی ایسا واقعہ ہوجاتاہے,افغان امن عمل کا پراسس اسی ماہ چل رہا تھا۔

میجر جنرل آصف غفور کا کہنا تھا کہ عالمی عدالت انصاف میں کلبھوشن کاکیس چل رہا تھا،کرتارپوربارڈرپردونوں ملکوں کی میٹنگ ہونا تھی،8 ایسے ایونٹس تھےجو پاکستان میں ہونے تھے

یہ کیسےہوسکتاہے کہ پاکستان کی طرف سے کوئی ایل او سی کراس کرے ،کیا پاکستان ڈپلومیٹک آئسولیشن میں ہے ؟،ایف اے ٹی ایف کی رپورٹ پر ڈسکشن ہونی تھی اور ایک اہم فیصلہ ہونا تھا،لائن آف کنٹرول پر ہم نے5 کراسنگ پوائنٹ بھی قائم کیے،اگرپاکستان ڈپلومیٹک آئسولیشن میں ہے تو کیسے سربراہان مملکت یہاں کےدورے کررہےہیں ،بھارت میں متعدد افراد اس حملے کی پیشگوئی کررہے تھے ،یہ کیسےہوسکتاہے کہ پاکستان کی طرف کوئی ایل او سی کراس کرے ،واقعہ اس علاقے میں ہوا جہاں مقامی آبادی سے زیادہ فوج بیٹھی ہے، حملہ جس نے کیا وہ مقبوضہ کشمیر کا مقامی نوجوان تھا،بھارت میں بھی آج کل الیکشن کاسیزن چل رہا ہے،لائن آف کنٹرول پربھارتی فورسزکالیئرڈیفنس ہے۔

ترجمان پاک فوج نے کہا کہ ہمارےوزیراعظم نےبھارت کووہ پیش کش کی جوپہلے نہیں کی گئیں،ہم خطے میں امن کی کوشش کررہےہیں، معاشی استحکام کی کوشش کررہےہیں،جو وڈیو ریلیز کی گئی اس کا تجزیہ بھی بہت سے اشارے دے گا، پاکستان بدل رہاہے ، ایک نیا مائنڈ سیٹ آرہاہے،بھارت جنگ کی تیاری کررہا ہے،فوج اور عوام نے خون کے سمندر سے گزر کر ملک کو جلا بخشی ،ہم جنگ کی تیاریاں نہیں کررہے،جنگ اور بدلے کی دھمکی بھارت کی طرف سے آرہی ہے ،ہم جنگ میں پہل کی تیاری نہیں کررہے ،دفاع کرنا ہمارا حق ہے ،نیشنل ایکشن پلان کے 20 نکات تھے ،بھارت میں یہ بات چیت ہورہی ہے کہ پاکستان جنگی تیاریاں کررہا ہے ،آنیوالی نسلوں کو بہتر مستقبل دینے کی سوچ پاکستان میں پنپ رہی ہے ،ہم خطے میں امن کی کوششیں کررہےہیں ۔

ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ بھارت دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت ہے اور جمہوری ملکوں میں جنگ نہیں ہوتی ،مسئلہ کشمیر خطے کے امن کیلیے سب سے بڑا خطرہ ہے آئیے اسے حل کریں ،ہم امن کی صحافت کو لے کر آگے بڑھ رہے ہیں ، آئیے خطے کو دہشتگردی سے پاک کرتے ہیں، بھارت کا سارا میڈیا جنگی صحافت کررہا ہے ،امید کرتا ہوں کہ پاکستان کی طرف سے آپ کوپیغام مل گیا ہوگا،پاکستان کی فوج صرف وہ فوج نہیں ہے جو صرف یونیفارم پہنتی ہے،ہر پاکستانی ہمارا سپاہی ہے،70سال سے آپ کو دیکھا اور آپ ہی کیلئے صلاحیتیں بنائی ہیں،خود کو سیکولر کہتے ہیں اور پھر اقلیتوں کے ساتھ کیا سلوک کررہے ہیں،آئیے خطے کو دہشتگردی سے پاک کرتے ہیں۔

ترجمان پاک فوج نے کہا کہ(ر)جنرل اسد درانی کی ملٹری کوڈ آف کنڈکٹ کی خلاف ورزی پرانکوائری ہورہی ہے،ان کی پنشن روک دی گئی ہے ،اسد درانی نے فوجی ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی کی ہے،اسد درانی کو پنشن سمیت دیگر مراعات نہیں دی جائیں گی،اسد درانی کا نام ای سی ایل پر ہے  اور وزارت داخلہ سے بات کریں گے جبکہ پاک فوج کے مزید دو فوجی افسران پر مقدمات چل رہے ہیں۔

میجر جنرل آصف غفور نے کہا کہ پاکستان کی سالمیت کی بات ہو تو 20 کروڑ عوام اس کےمحافظ ہیں ،اگر جنگ مسلط کی گئی تو پہلا ردعمل اپنا دفاع ہوگا،جنگ نہیں چاہتے کسی بھی جارحیت کا منہ توڑ جواب دیں گے،بھارت اپنی نسلوں سے خوشحالی نہ چھینے ،بھارت پاکستان سے دشمنی لے مگر انسانیت سے دشمنی نہ لے،ایران کے ساتھ سرحد پر فینسنگ کیلئے بات چیت جاری ہے،وزیراعظم نے موجودہ حالات کے پیش نظر ہمیں اختیار دیا،اپنی مسلح افواج پر مکمل اعتماد کریں ،مادر وطن کے ایک ایک انچ کا دفاع اپنے خون سے کریں گے،بھارت امن چاہتا ہے تو کلبھوشنوں کو پاکستان نہ بھیجے،ہم ایران اور بھارت کا موازنہ نہیں کرسکتے،سکیورٹی کیلئے ایران سے رابطے بہتر ہوئے ہیں۔

ترجمان پاک فوج نے دبنگ انداز میں مودی سرکار کو منہ توڑ جواب دیتے ہوئے کہا کہ دہشتگردی کے خلاف پاکستان،ایران اور افغانستان کے درمیان بہترین روابط ہیں،بھارت پاک فوج کو کوئی سرپرائز نہیں دے گا،بھارتی جارحیت کی صورت میں دفاع کا حق رکھتے ہیں،ڈھائی سو کلو گرام بارود ایک دن میں جمع نہیں ہوتا،یہ بھارت کی انٹیلی جنس کی ناکامی ہے،موت کا خوف اترجائے تو اس کا کوئی حل نہیں ہوتا ،ستر سال سےکشمیری تشدد کاسامنا کررہے ہیں انکاموت کاخوف زائل ہوگیا ہے  جبکہ جارحیت کا جواب جارحیت سے ہی ملتا ہے۔