باتیں مشفق خواجہ کی

باتیں مشفق خواجہ کی

میر ی علمی و ادبی زندگی پر جن اہلِ قلم نے گہرے اثرات مرتب کیے ان میں منجملہ اور اصحاب کے ایک ، نامور محقق اور صاحبِ طرز نثر نگار، مشفق خواجہ بھی تھے ۔ خواجہ صاحب کی شخصیت پہلودار ، علم حاضر اور زبان نکتہ سنج تھی ۔ میں نے ان کی بڑی صحبتیں اٹھائیں اور ان کے علم و فضل سے برابر فیض اندوز ہوتا رہا۔ ان سے اپنی سالہا سال پر پھیلی ملاقاتوں اور اپنے مشاہدوں کا حاصلِ جمع نکالتا ہوں تو کسی نکتہ طراز فارسی شاعر کا یہ شعر یاد آئے بغیر نہیں رہتا: 

ظاہر ہمہ سرسبز و درونش ہمہ خون است

از فطرت ما برگ حنا را، کہ خبر کرد

(حنا کی پتّی کو دیکھو، اس کا ظاہر سرسبز ہوتا ہے اور باطن لہو کی طرح سرخ۔ معلوم نہیں کس نے ہماری فطرت سے حنا کی پتّی کو آگاہ کر دیا کہ اس کا ظاہر و باطن ہمیں جیسا ہو گیا!) جی ہاں، مشفق خواجہ بھی ایسے ہی تھے ۔ بظاہر لطیفہ طراز، قہقہہ باز، شگفتہ مزاج مگر بباطن دکھ اور غم کے دبیز کُہرے میں لپٹے ہوئے۔ اس کا اندازہ یا تو اس وقت ہوتا تھا جب اُن کے اور اِس نیاز مند کے سوا ان کے ہاں کوئی تیسرا نہیں ہوتا تھا یا پھر ان کی شاعری کے دلگداز مجموعے ابیات سے۔ مجھے نہیں معلوم کہ انسان کا خمیر غم سے اٹھا ہے یا نشاط سے مگر اتنا معلوم ہے کہ وہ جونہی اس دنیا میں قدم رکھتا ہے، آغاز رونے سے کرتا ہے!

خواجہ صاحب کو ہم سے بچھڑے پورے سترہ برس ہو گئے۔ ۲۱فروری۲۰۰۵ء کو وہ عالم بقا کو سدھارے مگر اپنے چاہنے والوں کی آنکھوں ، کانوں اور دلوں میں اب تک آباد اور زمزمہ سنج ہیں۔ وہ ادبی محفلوں اور مشاعروں سے تو قصداً دور رہتے تھے۔ مگر نجی محفلوں میں جانِ مجلس وہی ہوا کرتے تھے۔ قدیم تذکروں کے واقعات ، دلچسپ لطائف ، ادبی اسکینڈلز ، نئی اور تازہ ترین کتب کے مباحث، غرض پورے برعظیم کے ہنگامہ خیز ادبی منظر نامے کے پل پل کا انھیں علم ہوتا تھا۔ اردو اور فارسی کے قلمی نسخوں اور برعظیم اور دنیا کے بڑے بڑے کتب خانوں میں ان کے وجود کے ضمن میں ان کی معلومات حیرت کے در کھولتی تھیں۔ ان کی ذاتی لائبریری نوادرات کی کان تھی۔ تذکرے، تاریخ، مخطوطے ، آپ بیتیاں ، وصلیاں ، خطاطی کے نادر نمونے ، ادبا کی نادر تصویریں ، تحقیقی و تنقیدی کتابیں، مشاہیر کے خطوط، ادبا کے نجی کتابی و قلمی ذخیرے اور ڈائریاں۔ شمالی ناظم آباد میں ان کی اقامت گاہ کے تیرہ کمرے انھی نوادرات سے اٹے تھے۔ سوچتا ہوں کیسا نادر اور منفرد وجود تھا خواجہ صاحب کا۔ ان کے دم سے زندگی کتنی سنہری، کتنی روپہلی لگتی تھی اولیں محبت کی طرح!

خواجۂ مرحوم کا تحقیقی کام تو درجۂ اول کا ہے ہی مگر ان کا تازہ ، دلچسپ اور بدیع اسلوبِ نثر ان کے کالموں اور خطوں میں اپنی سج دھج دکھاتا تھا۔ کالموں اور خطوں میں زندہ ، شگفتہ، لطائف و ظرائف سے بہرہ دار اور لطیف مزاح اور کاٹ دار طنز سے پہلو بہ پہلو مزین یہ نثر انھیں دیر تک زندہ رکھے گی۔ کیا یہ حقیقت نہیں کہ وفات پر ایک قابل لحاظ عرصہ گزر جانے کے باوجود اہلِ ادب کی یادوں میں اب بھی ان کی شگفتہ نثر پھول کھلاتی ہے اور طنزیہ پیرایہ چٹکیاں لیتا ہے! قارئین آئیے آپ کو بھی کچھ دیر کے لیے اس نشاط انگیز اور ہنستی کھلکھلاتی اقلیم میں لیے چلیں:

۱) ’’کشور ناہید کی وجہ سے انتظار حسین خاصے سہمے سہمے نظر آ رہے تھے اور ایک موقع پر انھوں نے 

کہہ بھی دیا کہ میں کشور ناہید سے بہت ڈرتا ہوں۔ اس پر کشور ناہید نے فاتحانہ انداز سے کہا: علم کے معاملے میں میری آپ کی لڑائی نہیں ہے۔ محترمہ نے یہ بڑی عارفانہ بات کہی ہے۔۔۔ لڑتے ہم اسی وقت ہیں جب کسی چیز کے کھو جانے کا خوف ہو یا کسی چیز کے ہاتھ آنے کی توقع ہو۔ جو چیز موجود ہی نہ ہو اس کے لیے لڑنا بے کار ہے ‘‘۔ 

۲) ’’مکاتیب خضر‘‘ (محمد خالد اختر) پر طنز کا لطیفہ پیرایہ غالب کی زبان میں پیروڈی کی صورت میں ملاحظہ ہو: مولانا ماہر القادری کے نام خط میں تم نے کئی جگہ ’’قصہ‘‘ کی جمع ’’قصائص‘‘ لکھی ہے۔ لعنت ہو مجھ پر اگر میں ’’قصہ‘‘ کی جمع ’’قصص‘‘ کے سوا کچھ اور سمجھوں۔ ’’قصائص‘‘ از روئے لُغت غلط از روائے لَغویت درست ۔ اسی خط میں تم لکھتے ہو ’’اصل حال اب مجھ پر باز ہوا‘‘۔ بھائی حال کوئی دروازہ نہیں کہ باز ہو۔ ’’باز‘‘ کے معنی کھلنے کے ضرور ہیں لیکن استعمال کا موقع و محل دیکھ لینا چاہیے۔ ’’حسن پرست‘‘ کی جمع تم ’’حسن پرستگان‘‘ لکھتے ہو ’’کُندۂ نا تراش‘‘ کی جگہ ’’ناکندۂ تراش‘‘ ارشاد فرماتے ہو۔ حیرت ہے کہ تمھیں کوئی ٹوکتا بھی نہیں۔۔۔‘‘

۳) ’’ڈاکٹر سلیم اختر کی ایک ادائے دلبرانہ یہ بھی ہے کہ وہ اپنی تحریروں میں ڈاکٹر انور سدید کا ذکر ضرور کرتے ہیں لیکن اس کتاب (اردو زبان کی مختصر ترین تاریخ) میں انھوں نے اشارتاً کنایتاً بھی ڈاکٹر انور سدید کو نہیں چھیڑا حال آنکہ کتاب میں جہاں متروکات کی بحث ملتی ہے وہاں بہ آسانی ان کے ذکر خیر کی گنجائش نکالی جا سکتی تھی‘‘۔ 

۴) ’’عام لوگ حشر کے دن اپنے جھوٹ کی وجہ سے اپنی اپنی سزا کو پہنچیں گے ۔ لیکن سحاب (قزلباش) کی پکڑ ان کے سچ کی وجہ سے ہوگی ۔ افسوس کہ اس سچ کا بڑا حصہ ایسا ہے جسے ہم اپنے کالم میں نقل نہیں کر سکتے۔ ہمارا کالم ڈاکٹر تحسین فراقی اور ڈاکٹر رفیع الدین ہاشمی جیسے صالحین ادب بھی پڑھتے ہیں۔ ہم نہیں چاہتے کہ ان کے کردار پر کوئی منفی اثر پڑے‘‘۔ 

۵) ’’چند برس قبل ایک مشہور ادیب کے گھر میں اتفاق سے آگ لگ گئی ۔ ان کے کتب خانے کی بہت سی نادر کتابیں جل گئیں۔ کئی غیر مطبوعہ تصانیف کے مجموعے بھی جل کر راکھ ہو گئے۔ خانہ سوختہ ادیب کے دوست اظہار ہمدردی کے لیے ان کے ہاں پہنچے ۔ ہر دوست نے اپنی بساط کے مطابق آتش زدگی کے واقعے پر اظہارِ افسوس کیا۔ البتہ ایک دوست نے منفرد انداز سے دلی جذبات کا اظہار کیا ۔ اس نے کہا : اس میں کوئی شک نہیں کہ آپ کے کتب خانے کا جل جانا ایک درد ناک سانحہ ہے لیکن یاد رکھیے کہ ہر شر میں خیر کا کوئی نہ کوئی پہلو ضرور ہوتا ہے۔ جہاں مطبوعہ کتابوں کا جل جانا افسوسناک ہے وہیں آپ کی غیر مطبوعہ تصانیف کا ہمیشہ ہمیشہ کے لیے غیر مطبوعہ رہ جانا اطمینان کا باعث بھی ہے۔ یقینا یہ آپ کا نقصان ہے لیکن یہ بھی تو دیکھیے کہ آپ کے قارئین بے شمار متوقع نقصانات سے محفوظ ہو گئے!‘‘

۶) سعادت سعید کے دیباچے میں بھی اصل کتاب کی پیروی ملتی ہے مثلاً ایک جملہ یہ ہے : ’’ہمیں یہ کہنے میں ’’باق‘‘ نہیں ہے‘‘۔ اس میں لفظ ’’باق‘‘ دیباچہ نگار کی ’’بے باقی‘‘ کا عمدہ نمونہ ہے۔ اگر یہ سب کچھ عمداً نہیں ہے تو اس مفید کتاب کا غلط نامہ ضرور تیار ہونا چاہیے ۔ اگر غلط نامے کی ضخامت کتاب سے بڑھ جائے تو کوئی مضائقہ نہیں۔ کتاب کا اپنا مزہ ہے اور غلط نامے کا اپنا مزہ ہو گا‘‘۔ 

قارئین کرام! میری جن اہم ادباء سے کثیر خط کتابت رہی ان میں مرحوم مشفق خواجہ سرِ فہرست ہیں۔ ان کے کم و بیش ڈھائی سو کے قریب خط میرے نام تھے جن کا بڑا حصہ ’’باتیں مشفق خواجہ کی‘‘ کے زیر عنوان شائع ہو چکا ہے۔ بے تکلفی، شگفتگی ، بے ساختگی اور اعلیٰ تحقیقی معلومات کے حامل ان خطوں کے بھی دو ایک نمونے دیکھیے: 

۱) ’’عقیل صاحب دیکھنے میں اتنے سنجیدہ ہیں کہ اگر کبھی کبھار مسکرا دیتے ہیں تو ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے مسکراہٹ نہ ہو کتابی چہرے پر کتابت کی کوئی غلطی ہو‘‘۔ 

۲) ’’ان کے قیام سے چند روز ہنسی خوشی گزر گئے۔ خوشی اس کی کہ ان کو قریب سے دیکھنے کا موقع ملا۔ ہنسی اس پر آئی کہ وہ تحقیقی کام اس طرح کرتے رہے جیسے ہتھیلی پر سرسوں جماتے ہیں۔ میرے کتب خانے کی کتابوں کو انھوں نے اس طرح دیکھا جس طرح واجد علی شاہ اختر (تاجدارِ اودھ) اپنی چار سو بے نکاحیوں کو ایک قطار میں کھڑا کر کے دیکھا کرتا تھا‘‘۔ 

حق یہ ہے کہ ایسی شگفتہ اور باغ و بہار نثر کے نمونے اردو کے وسیع نثری ادب میں خال خال ہیں۔ ابھی حال ہی میں ڈاکٹر محمود احمد کاوش نے مرحوم خواجہ صاحب کے تحقیقی کارناموں اور زندہ نثر پر اپنا عمدہ تحقیقی مقالہ شائع کر دیا ہے۔ پی ایچ۔ڈی کے اس مقالے میں بڑی جامعیت ہے۔ ہاں بعض غیر ضروری تفصیلات سے گریز کیا جاتا تو کتاب زیادہ جاذب ہو جاتی۔ واقعہ یہ ہے کہ قدرت مشفق خواجہ جیسے اہم لوگوں کے ظہور میں کبھی زیادہ فیاضی نہیں دکھاتی۔ مشفق خواجہ اپنی نوعیت کے ایک ہی نابغہ تھے۔ ایسا کہاں سے لاؤں کہ تجھ سا کہیں جسے۔

مصنف کے بارے میں