تحریری جواب بھجوا سکتا تھا، قانون کی حکمرانی کیلئے پیش ہوا:وزیراعلیٰ پنجاب

تحریری جواب بھجوا سکتا تھا، قانون کی حکمرانی کیلئے پیش ہوا:وزیراعلیٰ پنجاب
cm pupnjab shahbaz sharif nab

لاہور:وزیراعلیٰ پنجاب میاں محمد شہباز شریف نے کہا ہے کہ بدنیتی پر مبنی نوٹس کے باوجود  قانون کی حکمرانی کیلئے عدالت میں پیش ہوا ، نیب کو لکھ کر جواب بھی بھیج سکتا تھا۔


تفصیلات کے مطابق وزیراعلیٰ پنجاب میاں محمد شہباز شریف نے لاہور میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ بدنیتی پر مبنی نوٹس کے باوجود نیب عدالت میں پیش ہوا ، میں قانون کی حکمرانی چاہتا تھا۔

انھوں نے کہا کہ قانون کے مطابق صوبائی حکومتیں کمپنیاں بنا سکتی ہیں ، نیب نوٹس پر میرے خلاف بے بنیاد تشہیر کی گئی ، ڈیڑھ گھنٹہ تک نیب عدالت میں رہا اور تین سوال مجھ سے پوچھے گئے۔

میں نے نیب کو جواب دیا کہ سترہ سو روپے پر سکوائر فٹ سے نو سو روپے پر لے کر آئی جس سے ڈیڑھ ارب روپے کی بچت کی ، اگر یہ کرنا جرم ہے تو میں سو مرتبہ کروں گا ، کمپنیوں کی نگرانی کرنا حکومت کی ذمہ داری ہوتی ہے۔

وزیراعلیٰ نے کہا کہ کیا قوم کا پیسہ بچانا جرم ہے تو ایسا کرنے کیلئے ہزار بار قانون پار کریں گے ، چیئرمین نیب نے 56 کمپنیوں کا ریکارڈ منگوایا ہے ، کم لاگت کیلئے پنجاب لینڈ اتھارٹی بنائی گئی ، کم بولیاں لگانے والی کمپنیوں کا آشیانہ سکیم کا ٹھیکہ دیا گیا ۔

انھوں نے بتایا کہ 2007 میں چودھری پرویز الٰہی کے رشتہ دار کو بغیر بولی کے چنیوٹ کا ٹھیکہ دیا گیا ، آشیانہ قائد اعظم سکیم کے تحت 1700 گھر بنانے کا ٹارگٹ دیا گیا ، نیب کے پاس میرے سوالات کا کوئی جواب نہیں تھا۔