القاعدہ کے مؤرخ کی ویب سائٹ کا تہران سے دوبارہ آغاز

 القاعدہ کے مؤرخ کی ویب سائٹ کا تہران سے دوبارہ آغاز

ریاض: القاعدہ تنظیم کے ایک نمایاں ترین مؤرخ ابو الولید مصطفی حامد نے تہران سے اپنی ویب سائٹ مافا کے ذریعے بنیاد پرست جماعتوں کے باریک بینی سے جائزے سے متعلق اپنی سرگرمیوں کا دوبارہ سے آغاز کر دیا ۔ ابو الولید کا نام دہشت گردی سے متعلق امریکی وزارت خزانہ کی فہرست میں شامل ہے۔


میڈیارپورٹس کے مطابق اسامہ بن لادن اور ایمن الظواہری کے دوست ابو الولید نے 2016 میں اپنے بیٹوں کے ساتھ قطر سے ایک مرتبہ پھر تہران آ کر وہاں مستقل قیام کا فیصلہ کیا۔ ابو الولید 11 ستمبر کے واقعات کے بعد 2002 میں اپنے اہل خانہ کے ساتھ ایران میں قیام کے لیے آ گیا تھا۔ اْن کے ساتھ القاعدہ کے رہ نماؤں کا مجموعہ اور بن لادن کے بہت سے گھر والے بھی تھے۔

ابو الولید کے مطابق ایرانیوں نے عربوں اور ان کے خاندانوں کو ملک میں داخل ہونے کی اجازت دی یہاں تک کہ ان میں بعض لوگوں کو مدد بھی پیش کی گئی۔

درحقیقت بعض شیعہ مذہبی شخصیات نے عربوں کی ایران میں پناہ ، ان کے تحفظ اور انہیں حوالے نہ کیے جانے کے سلسلے میں گہرے جوش کا اظہار کیا۔ تاہم اس کا برعکس ردّ عمل سامنے آیا۔

تہران کی دیواروں پر تحریروں میں یہ مطالبہ کیا گیا کہ طالبان شیعہ علما کو ملک بدر کر کے افغانستان بھیج دیا جائے۔

نیوویب ڈیسک< News Source