چین جانے کی وجہ سے نام ای سی ایل میں ڈالا گیا، مراد علی شاہ کا دعویٰ

کراچی: سندھ اسمبلی میں وزیر اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے کراچی سرکلر ریلوے اور سی پیک سے متعلق منصوبوں پر بات کی۔ چینی کمپنیوں کو بنک گارنٹی دینے کے لیے وزیراعظم عمران خان اور وفاقی حکومت کو متعدد خطوط لکھے ہیں لیکن ان کے جواب نہیں دیے جا رہے اس سے اندازہ لگا لیں کہ ان کی کراچی میں کتنی دلچسپی ہے۔


انہوں نے مزید بتایا ہفتہ بھر پہلے بھی وزیراعظم کو کے سی آر سے متعلق خط لکھا ہے اور میں اس لیے خط لکھتا رہتا ہوں کہ شاید کبھی تو اثر ہو گا۔

مراد علی شاہ نے الزام لگایا کہ ان کا نام چین جانے کی وجہ سے ای سی ایل میں ڈالا گیا ہے اور وفاقی حکومت کو میرے دورہ چین پر اعتراض تھا۔

انہوں نے کہا کہ کراچی سرکلر ریلوے منصوبہ وفاق کے تعاون کے بغیر بننا ممکن نہیں ہے اور ریلوے سے الگ ہماری لڑائی چل رہی ہے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ ہمارے پاس پیسے نہیں ہیں لیکن ہم قرض لیکر اس منصوبے کے لئے 15 فیصد پیسے دینے کے لئے تیار ہیں۔

مراد علی شاہ نے کہا کہ لوگوں کو سولی چڑھانا، مرنا مارنا بند کریں اور اپنے ووٹروں کے لئے کام کریں جنہوں نے آپ کو ووٹ دیا۔ ملک کی معاشی حالت بہت خراب ہے اور میں اس حکومت میں ملک کو ڈوبتے دیکھ رہا ہوں۔ اس حکومت کا اب صرف یہی کام رہ گیا کہ اس کو مار دو، اس کو پکڑ لو۔ وزیراعلی کی تقریر پر اپوزیشن ارکان نے احتجاج اور خوب شور شرابہ کیا۔