ملک میں چھٹی بار بجلی ایک روپے 95 پیسے فی یونٹ مہنگی کردی گئی

ملک میں چھٹی بار بجلی ایک روپے 95 پیسے فی یونٹ مہنگی کی جائے گی

اسلام آباد:پی ٹی آئی حکومت نے   اڑھائی  سالوں میں پانچ  بار بجلی مہنگی کی  اوراب چھٹی بار ایک بار پھر بجلی ایک روپے 95 پیسے فی یونٹ مہنگی کردی گئی ہے۔

تفصیلات کے مطابق حکام پاور ڈویژن  کے مطابق اڑھائی سالوں میں بجلی 61 فیصد مہنگی کی گئی، اور ان سالوں میں بجلی اوسطاً 3 روپے 85 پیسے فی یونٹ مہنگی کی گئی ۔

تحریک انصاف حکومت سے پہلے بجلی کا اوسط ٹیرف 9 روپے 50 پیسے فی یونٹ تھا،اڑھائی سالوں میں بجلی کا اوسط ٹیرف بڑھ کر 13 روپے 35 پیسے ہو گیا ہے،ایک روپے 95 پیسے فی یونٹ بجلی مہنگی ہونے کے بعد اوسط ٹیرف 15 روپے 30 پیسے فی یونٹ ہو جائے گا ، اڑھائی سالوں میں بجلی مہنگی کرنے سے صارفین پر 450 ارب روپے کا اضافی بوجھ ڈالا گیا،ایک روپے 95 پیسے فی یونٹ بجلی مہنگی کرنے سے صارفین پر مزید 200 ارب روپے کا بوجھ پڑے گا   ،بجلی  آئی ایم ایف کی شرط پوری کرنے کیلئے مہنگی کی جارہی ہے ،اضافے کے بعد بجلی کا بنیادی ٹیرف 15 روپے 30 پیسے فی یونٹ ہوجائے گا  ۔

اس وقت بجلی کا بنیادی ٹیرف 13 روپے 35 پیسے فی یونٹ ہے  ،موجودہ حکومت پہلے ہی بجلی 3 روپے 85 پیسے فی یونٹ مہنگی کرچکی ہے  ،موجودہ حکومت بجلی کی قیمتوں میں 5 بار پہلے ہی اضافہ کرچکی ہے ،بجلی صارفین پر 450ارب روپے سے زائد کا اضافی بوجھ پہلے ہی ڈالا جاچکا ہے  ،بجلی یکم جنوری 2019کو ایک روپے 27 پیسے فی یونٹ مہنگی کی گئی تھی ،دوسری بار یکم جولائی 2019 کو بجلی ایک روپے 49 پیسے فی یونٹ مہنگی کی گئی تھی ۔

تیسری بار بجلی 53 پیسے فی یونٹ مہنگی کی گئی تھی  ،چوتھی بار بجلی 30 پیسے فی یونٹ مہنگی کی گئی  ،پانچویں بار بجلی 26 پیسے فی یونٹ مہنگی کی گئی تھی  ،اس وقت صنعتی شعبہ کو اوسطاً 13 روپے 59 پیسے فی یونٹ کے حساب سے بجلی فراہم کی جا رہی ہے،عام صارفین کو اوسطا 15 روپے 30 پیسے فی یونٹ بجلی دی جا رہی ہے۔

50 یونٹ استعمال کرنے والے  گھریلو صارفین کو بجلی دو روپے یونٹ دی جا رہی ہے ،100 یونٹ تک 5.79 روپے، 200 یونٹ 8 روپے 11 پیسے فی یونٹ بجلی مل رہی ہے،300 یونٹ تک 10.20 روپے، 700 یونٹ تک 17.60 روپے جبکہ، اس سے اوپر 20.70روپے فی یونٹ بجلی دی جا رہی ہے،حکومت نے سال 2019.20 ء میں بجلی پر 430 ارب روپے سبسڈی دی ہے،رواں مالی سال کے دوران بجلی پر 257 ارب روپے سبسڈی دینے کا تخمینہ لگایا گیا ہے۔