اسلام آباد: پاناما کیس کا فیصلہ کیا آئے گا، کس کے حق میں اور کس کے خلاف ہوگا۔ فیصلہ کس دن سنایا جائے گا تاریخی فیصلے کے اس دن کا سب کو ہے بے صبری سے انتظار ۔

پہلے 45دن کے لیے عبوری وزیراعظم آئے گا پھر شہباز شریف کو ایم این اے منتخب کروا کر نیا وزیراعظم بنایا جائے گا ۔وزیراعظم کی زیرصدارت اجلاس میں طے کیا گیا کہ سپریم کورٹ سے فیصلہ حق میں نہ آنے کی صورت میں تمام آئینی و قانونی آپشن استعمال کیے جائیں گے، سیاسی میدان خالی نہیں چھوڑا جائے گا ۔

حکمران مسلم لیگ ن نے عدالت عظمیٰ کے ممکنہ طور پراپنےخلاف فیصلہ پر ہرصورت عمل درآمد کرنے کا فیصلہ کرتے ہوئےممکنہ سیاسی مضمرات سے نمٹنے کی حکمت عملی تیار کرلی ہے۔

ذرائع کا کہناہے کہ اگر سپریم کورٹ نے وزیراعظم کو براہ راست نااہل یا مزید تفتیش کےلئےعہدے سے ہٹانے کی سفارش کردی تو حکمران جماعت اپنانیا وزیراعظم لے آئے گی۔ذرائع کا کہناہےکہ اس سلسلے میں مختلف نام زیرغور ہیں لیکن خواجہ محمد آصف دیگر تمام امیدواروں میں سب سے مضبوط امیدوار ہیں اور وہ ممکنہ طور پر عارضی وزیراعظم ہوں گے۔

ذرائع کا کہناہےکہ انہیں چودھری شجاعت فارمولے کی طرح 45 دن کے لئے وزیراعظم بنایاجائےگا اور اس دوران وزیراعلیٰ شہباز شریف کو رکن قومی اسمبلی کی نشست پر منتخب کروا کر ملک کا نیا وزیراعظم بنایاجائےگا۔ اس معاملے پر پارٹی کے اندر بھی اتفاق رائے پایاجاتاہے۔

ذرائع کا کہناہے کہ خلاف فیصلہ آنے کی صورت میں متبادل وزیراعظم کے طور پر خواجہ آصف مضبوط امیدوار بن کے ابھرے ہیں لیکن اس کے علاوہ بھی کئی دیگر نام بھی لئے جارہے ہیں جن میں احسن اقبال، سردار ایازصادق اور خرم دستگیر کے نام بھی شامل ہیں۔ذرائع کا کہناہےکہ اس سلسلے میں جامع حکمت عملی ترتیب دی دی گئی ہےجبکہ حکمران جماعت کی حالیہ مشاورتی نشستوں میں طے کرلیاگیاہےکہ پاناما کیس کے دو پہلو ہیں ایک قانونی اور دوسرا سیاسی۔

قانونی طور پر سپریم کورٹ کے کسی بھی فیصلہ کو ہرصورت قبول کیاجائےگا اور کوئی محاذ آرائی کی صورت پیدا نہیں ہونے دی جائےگی تاہم قانونی فیصلہ کو تسلیم کرنے کے باوجود اس کاسیاسی سطح پر بھرپور مقابلہ کیاجائےگا اور اپوزیشن کی جانب سے الزامات اور مہم جوئی کا بھرپور مقابلہ کیاجائےگا اور سیاسی میدان کسی صورت خالی نہیں چھوڑا جائےگا۔ذرائع بتاتے ہیں کہ حکمران جماعت نے متبادل وزیراعظم کےحوالے سے مکمل مینڈیٹ اور اختیار وزیراعظم کو دے دیاہے کہ جس کو چاہیں اپنا متبادل نامزد کردیں۔

اس کےلئے 4 اہم خصوصیات کا حامل ہونا ضروری قرار دیاگیاہے، ایک تو وہ پارٹی سے طویل وابستگی یعنی تجربہ کار ہو اور دوسرا مسلمہ وفاداری کی تاریخ رکھتاہو، تیسرا پارٹی کے اندر اس کی توقیر اور تعلقات دوستانہ ومفاہمانہ ہوں جبکہ چوتھا اور بہت اہم اس کی وزیراعظم کے ساتھ کمیونی کیشن اچھی ہو۔

ذرائع کا مزید کہناہےکہ سپریم کورٹ کے کسی بھی فیصلے کے بعد پارلیمانی پارٹی کا اجلاس بلاکر وزیراعظم پر پھر اعتماد کا اظہار کیاجائےگا اور عارضی اور مستقل متبادل وزیراعظم کے انتخاب کی صورت میں وزیراعظم کے فیصلوں کی تائید کی جائےگی۔

نیو نیوز کی براہ راست نشریات، پروگرامز اور تازہ ترین اپ ڈیٹس کیلئے ہماری ایپ ڈاؤن لوڈ کریں