بین الاقوامی میڈیا کا مسلمانوں کے حوالے سے امتیازی سلوک بے نقاب

بین الاقوامی میڈیا کا مسلمانوں کے حوالے سے امتیازی سلوک بے نقاب

اٹلانٹا: مسلمانوں کے حوالے سے بین الاقوامی میڈیا کے امتیازی اور جانبداران رویہ سامنے آگیا۔ جارجیا اسٹیٹ یونیورسٹی کی تحقیق میں ایک انکشاف سامنے آیا ہے کہ  بین الاقوامی میڈیا مسلمانوں کے نام سے حملوں کو کسی غیر مسلم کی طرف سے کیے جانے والے حملے کی نسبت 4.5گناہ زیادہ میڈیاکورریج دی جاتی ہے۔خاص طور پراگر حملہ آور غیر ملکی مسلمان کی طرف سے ہو تو میڈیا کورریج دیئے جانے کا امکان خاصا بڑھ جاتا ہے۔


اپنی تازہ ترین ریسرچ میں انھوں نے واضح کیاہے کہ اگرچہ مسلمانوں کی طرف سے بہت کم حملے کیے جاتے ہیں لیکن ان حملوں کو دوسرے حملوں کی نسبت 4.5گناہ زیادہ میڈیا کووریج دی جاتی ہے۔امریکی میڈیا ایساارادی طور پر کرتا ہے یا غیر ارادی طور پر، لیکن ایک بات واضح ہے کہ مسلمانوں کی طرف سے کیے جانے چھوٹے سے چھوٹے حملے کوغیر متناسب طور پر بہت زیادہ کورریج دی جاتی ہے ۔

تحقیق میں یہ بات واضح کی گئی ہے کہ’گلوبل ٹیر ازم ڈیٹا بیس ‘کے مطابق 89حملوں میں سے11حملے مسلمانوں کے نا م ہیں اور سب سے حیران کن بات یہ ہے کہ غیر مسلم افراد کی طرف سے کیے جانےو الے24حملوں کو 0%کورریج ملی لیکن اسکے برعکس کسی مسلمان کی طرف سے کیے جانےوالے چھوٹے سے چھوٹے حملے کو بے حد کورریج دی جاتی ہے۔