امتحانات میں نقل روکنے کیلئے ایک ملک میں 6 دن تک انٹرنیٹ بلاک

امتحانات میں نقل روکنے کیلئے ایک ملک میں 6 دن تک انٹرنیٹ بلاک

image by facebook

الجزائر : پاکستان میں اکثر امتحانات کے دوران کسی پرچے کے قبل از وقت لیک ہونے کی خبریں سامنے آتی ہیں اور ایسا دنیا کے مختلف ممالک میں بھی ہوتا ہے، مگر ایک افریقی ملک نے اسے بہت زیادہ سنجیدہ لیتے ہوئے ایسا اقدام کیا، جو اپنی مثال آپ ہے۔

الجزائر میں 2016 کے دوران امتحانات کے دوران امتحانی پرچوں کے سوالات آن لائن لیک ہوگئے جس پر وہاں کی انتظامیہ نے اس بارانٹرنیٹ کے خلاف سخت اقدام کیا۔

اس مقصد کے لیے حکومت نے پورے ملک میں انٹرنیٹ اور فیس بک تک رسائی پورے 6 دن کے لیے بلاک کر دیجی ہاں واقعی 20 سے 25 جون کے لیے اس ملک میں انٹرنیٹ کو مکمل طور پر بلاک کر دیا گیا ہے۔

فیس بک کے دنیا بھر میں سوا 2 ارب کے قریب صارفین ہیں اور کہا جاتا ہے کہ اس میں ایسے مخصوص گروپس موجود ہیں جو امتحانی سوالات اور جوابات شیئر کرتے ہیں۔

ایسا ہی کچھ الجزائر میں 2016 میں ہوا تھا جب بڑے پیمانے پر امتحانی پرچے آن لائن لیک کرکے نقل کی گئی بلکہ کچھ مقامات پر تو امتحان شروع ہوتے ہی سوالات کے جوابات آن لائن شیئر کردیئے گئے۔

اس کو دیکھتے ہوئے گزشتہ سال وہاں سوشل میڈیا تک رسائی کو اس توقع پر بلاک کیا گیا کہ اس مسئلے پر قابو پایا جاسکے گا، مگر ایسا نہ ہوسکا تو اس سال الجزائر کی حکومت نے ٹیلی کام کمپنیوں کو امتحانات کے دوران انٹرنیٹ کی سروس ہی معطل کرنے کا حکم دے دیا۔

امتحانات کے شروع ہوتے ہی وہاں لینڈ سروسز اور موبائل انٹرنیٹ سروسز کو روزانہ گھنٹوں معطل رکھا جارہا ہے، جبکہ ان 6 دن کے دوران فیس بک تک رسائی کو مکمل طور پر بلاک رکھا جائے گا۔

اسی طرح طالب علموں اور عملے کو حکم دیا گیا ہے کہ وہ امتحانی مراکز میں قدم رکھنے سے پہلے انٹرنیٹ تک رسائی رکھنے والی تمام ڈیوائسز حکام کے حوالے کریں جبکہ نگران کیمرے اور میٹل ڈیٹیکٹرز کو بھی ان مقامات میں استعمال کیا جا رہا ہے۔

ویسے یہ صرف الجزائر میں ہی نہیں ہو رہا ہے ، عراق میں بھی طالب علموں کو نقل سے روکنے کے لیے اسی طرح کے اقدامات کیے جا رہے ہیں۔

مسلسل تیسرے سال عراق میں انٹرنیٹ تک رسائی کو بلاک کیا گیا ہے تاکہ اعلیٰ کلاسوں کے طالب علموں کے امتحانات دے سکیں۔