پھر عام انتخابات

پھر عام انتخابات

اسرائیل ایک بارپھر عام انتخابات کے دہانے پر ہے نفتالی بینٹ کی سربراہی میں قائم موجودہ اتحادی حکومت عدمِ اعتماد کی دو تحاریک سے تو بچ گئی لیکن یہ حکومت اپنی بقیہ مدت پوری کرنے میں کامیاب نہیں ہو سکی اگر یہ کہیں کہ موجودہ اتحادی حکومت دوبار عدمِ اعتماد کی تحاریک سے بال بال ہی بچی ہے تو یہ کہنا بے جا نہ ہو گایہ صیہونی ملک آجکل جس سیاسی خلفشاراور عدمِ استحکام کا شکارہے اِس کا جلد خاتمہ نظر نہیں آتا ایسا لگتا ہے کہ رواں برس میں ہونے والے عام انتخابات بھی محض ایک تجربہ ہی ثابت ہوں گے اور نئی حکومت بھی کوئی ایک سیاسی جماعت کے بجائے نیا سیاسی اتحاد ہی تشکیل دے گا۔

 موجودہ اتحادی حکومت نے رواں برس 25 اکتوبریا پھر یکم نومبر کو قبل ازوقت ملک میں نئے عام انتخابات کرانے کی تاریخوں کا اعلان کر دیا ہے وزیرِ اعظم نفتالی بینٹ اور وزیرِ خارجہ یائر لاپیڈدونوں اتحادیوں میں رواں ماہ ہی27جون کو پارلیمنٹ تحلیل کرنے پر بھی اتفاق ہو گیا ہے اوریہ کہ موجودہ وزیرِ خارجہ یائرلاپیڈ عام انتخابات میں نگران وزیراعظم کے طورپر فرائض سرانجام دیں گے اِس کابھی باقاعدہ طورپرا علان کر دیا گیا ہے لیکن اسرائیلی حلقوں میں ایک بارپھر یہ زوردار بحث چھڑ گئی ہے کہ کیانئے عام انتخابات سے سیاسی استحکام کا خواب پورا ہو جائے گا؟ اِس کے لیے کوئی بھی زیادہ پُر امید نہیں بلکہ اکثریت اِس خیال سے متفق ہے کہ متوقع عام انتخابات میں بھی نہ صرف کوئی ایک جماعت اتنی اکثریت حاصل نہیں کر پائے گی کہ یکہ و تنہا حکومت تشکیل دے سکے بلکہ غالب امکان ہے کہ نئے انتخابات کے نتائج بھی نسلی اور لسانی تضادات کا شکار ملکی آبادی کی طرح منقسم ہی رہیں اور نئی حکومت ایک سے زائد مختلف جماعتیں مل کر ہی تشکیل دے پائیں اِس خیال کی وجہ بالکل واضح ہے دراصل اسرائیلی معاشرہ تقسیم درتقسیم کااِس حدتک شکار ہے کہ کالے لوگ گوروں کے تعصب ونفرت کا شکار ہیں لیکن مذہب اِس تعصب کو روکنے یا نفرت کی خلیج ختم کرنے میں قطعی ناکام ہے یہی تقسیم عام انتخابات کے نتائج پر اثر انداز ہوتی ہے علاوہ ازیں اسرائیل میں آباد عرب مسلمان اب ملک کی محض محکوم آبادی نہیں رہے بلکہ گزشتہ چند برس سے وہ ایک بڑی سیاسی قوت بن کر سامنے آئے ہیں یہ عرب سیاست کے علاوہ عدلیہ اور دیگر اِداروں میں اہم مقام حاصل کرتے جارہے ہیں لیکن اسرائیل کی کوئی حکومت مذہبی بنیادوں پر نفرت کی پالیسی ترک کرنے پر تیار نہیں حالیہ سیاسی عدمِ استحکام کاایک ہی حل ہے کہ نسل پرستانہ کارروائیاں جاری رکھنے اور مذہب کی بنیاد پرکسی طبقے کو کچلنے کا سلسلہ ترک کر تے ہوئے سب کو مساوی حقوق دیے جائیں لیکن ایسا ہونے کا امکان کم ہے اسی لیے خدشہ ظاہر کیا جارہا ہے کہ رواں برس کے اختتام کے قریب یعنی اکتوبر یا نومبر میںمنعقد ہونے والے عام انتخابات کے نتائج سے عدمِ استحکام کے خاتمے کا مقصدشایدہی پورا ہو سکے ۔

عر ب بہار نے مشرقِ وسطیٰ کو ہلا کر رکھ دیا لیکن اسرائیل پر اِس کا کوئی اثر نہ پڑا کیونکہ بادشاہت نہیں 

وہاں جمہوریت رائج ہے یہ خطے کا ایسا ملک جسے تمام ہمسایہ ریاستوںپر غلبہ حاصل ہے اُسے عرب بہار نے نہیں مذہبی اور طبقاتی تفریق نے سیاسی بھنورمیں پھنسایا ہے حالانکہ وہ بڑی معاشی قوت ہونے کے ساتھ دفاعی حوالے سے ایک ایسی بڑی علاقائی قوت ہے جس نے زرعی تحقیقات سے اپنے صحرا کے بڑے حصے کو نخلستان میں بدل دیا ہے شام، اُردن، مصر اور لبنان کے کئی علاقوں پر قبضہ کرنے کے ساتھ پورے فلسطین کو ہتھیا چکا ہے نوے لاکھ کی آبادی پر مشتمل اِس چھوٹے سے ملک کو تسخیرکرنے کی کسی ہمسائے میں ہمت نہیں مگر تمام تر بیرونی فتوحات کے باوجودغلط پالیسیوں کی بدولت  اندرون ملک آجکل بدترین سیاسی عدمِ استحکام کا شکار ہے اسی لیے ساڑھے تین برس کی قلیل مدت کے دوران پانچویں بار عام انتخابات ہونے والے ہیں جن کے بارے تمام حلقوں کو یقین ہے کہ اِن عام انتخابات کے نتائج سیاسی عدمِ استحکام کے زخم پر شاید ہی مرہم بن سکیںالبتہ عر ب واسرائیلی آبادی میں تفاوت کا خاتمہ کسی حدتک بہتری لانے کا موجب بن سکتا ہے مگر اسرائیل کے سخت گیر حلقے اِس کی راہ میں بڑی رکاوٹ ہیں ایک سچ یہ ہے کہ قدامت پسندوں اور آزاد خیال صیہونی آبادی میں فروغ پاتی نفرت ہنگاموں تک آپہنچی ہے یہی نفرت عام انتخابات کے نتائج کو لپیٹ میں لے لیتی ہے مگر ابھی تک کسی سیاسی جماعت کی طرف سے ایسے کوئی اشارے نہیں ملے کہ وہ ملک میں نسلی تعصبات کے خاتمے کے لیے پُرعزم ہے۔

سیاسی عدمِ استحکام سے کیا اسرائیل کا دفاعی پروگرام متاثر ہو گا؟ اِس کا جواب ہاں میں دینا ممکن نہیں کیونکہ حکومت خواہ کسی جماعت کی ہو سخت گیر یا قدرے آزاد خیال، کوئی بھی حکمران ہو سب کا اِس پر اتفاق ہے کہ ملک کو دفاعی اور معاشی حوالے سے خطے کی ناقابلِ تسخیرقوت بناناہے اب بھی اسرائیل خطے کا ناقابلِ تسخیر ملک ہے کوئی ہمسایہ ملک حملہ کرنا تو درکنا ر اپنے دفاع کے لیے بھی اِس کے سامنے کھڑاہونے کی ہمت نہیں رکھتا شام ،لبنان جیسے ہمسایہ ممالک کو آئے روز اسرائیلی جارحیت کا سامنا رہتا ہے زیادہ ترفلسطینی علاقوں پرقبضے کے ساتھ بقیہ کو عملاً قید رکھے ہوئے ہے یہ ملک موجودہ تمام تر سیاسی عدمِ استحکام کے باوجود اپنی دفاعی تیاریوں سے غافل نہیںبلکہ اب جلد ہی امریکی سربراہی میں مشرقِ وسطیٰ میں ایک ایسا نیادفاعی اتحاد قائم کرنے جارہا ہے جس سے اسرائیل کو عرب ممالک پر فیصلہ کُن برتری حاصل ہو جائے گی سوموار کے دن 20 جون کو وزیرِ دفاع بینی گینز نے پارلیمان کی خارجہ اور دفاعی کمیٹی کو بریفنگ دیتے ہوئے اِس منصوبے سے آگاہ کیا انھوں نے ابتدامیںمنصوبے کی جزیات تک جانے اورمجوزہ اتحاد میں شامل کسی اور شراکت دار کا نام ظاہر کرنے سے دانستہ طورپر گریز کیا ہے ایسا کرنے میں شاید یہ مصلحت یا حکمت ہو کہ کسی اور طاقت کو سازش یا مداخلت سے منصوبہ سبوتاژ کرنے کا موقع نہ ملے یہ کوئی عام منصوبہ نہیں بلکہ اِس منصوبے سے مشرقِ وسطٰی کی دفاعی صورتحال یکسر تبدیل ہو کر رہ جائے گی یہ ایک بڑی لاگت کاایسا منصوبہ ہے جو اسرائیلی بالادستی تسلیم کرانے کی ہر رکاوٹ دورکرنے میں معاون ثابت ہو گا چاہے بینی گینز نے نئے فضائی دفاعی اتحاد کی تشکیل میں شامل ممالک کا نام نہیں لیا لیکن مشرقِ وسطیٰ پر نظر رکھنے والے حلقوں کا کہنا ہے کہ عرب امارات سمیت مصر جیسا اہم ملک اِس منصوبے کا حصہ بن سکتا ہے ۔

ملک میں بدترین سیاسی عدمِ استحکام اپنی جگہ، ہر اسرائیلی حکومت دفاعی سرگرمیوں پر خصوصی توجہ دیتی ہے ڈرون تیار کرنے والایہ دنیا کاسب سے بڑا ملک ہے اسرائیلی فوج کے جدید ترین آلات کی وجہ سے اُسے کسی طرف سے کسی نوعیت کے خطرے کا اندیشہ نہیںپھربھی دفاعی تیاریوں کوسب سے زیادہ اہمیت حاصل ہے اُس کی تیاریاں اِس امر کی اغماض ہیں کہ اُس کی نظریں حال سے زیادہ مستقبل میں توسیع پسندانہ عزائم کی تکمیل پر ہیں ایرانی کارروائیوں کو اسرائیل نے تر کی کے تعاون سے اپنے جدیددفاعی آلات کی بدولت ہی ناکام بنا یا ہے اِس پر اسرائیلی صدر ہرزوگ نے ٹیلی فون پر ترک صدر طیب اردوان سے تشکر کیا اور آئندہ بھی امن و استحکام کے لیے قریبی تعاون بڑھانے ، سلامتی و دہشت گردی کے خلاف جنگ میں دونوں ممالک میں بات چیت جاری رکھنے پر زور دیا جبکہ وزیرِ اعظم نفتالی نے دہشت گرد بھیجنے والوں کو بھاری قیمت چکانے کی دھمکی دی جس سے اِس خیال کو تقویت ملتی ہے کہ سیاسی عدمِ استحکام کے باوجود نہ صرف ایران سے اسرائیلی مخالفت میں اضافہ ہوگا بلکہ عرب ممالک کو زیرِ نگین لانے کی کارروائیاں بھی زیادہ متاثر نہیں ہوں گی۔

مصنف کے بارے میں