جمہوریت اوار صدارتی نظام

 جمہوریت اوار صدارتی نظام

پاکستان میں جمہوریت کو صرف ایک ہی معنی میں لیا اور سمجھا جاتا ہے اور وہ روایتی برطانوی طرز حکومت ہے یعنی وزیر اعظم کا عوام کے منتخب نمائندوں کے ذریعے انتخاب آج کی تحریر کا بنیادی مقصد یہ ہے کہ جو موجودہ حالات چل رہے ہیں اور معیشت جس طرف جا رہی ہے، نظام کو خطرے کی بات ہو رہی ہے اور وفاق کے ٹوٹنے کی بات ہو رہی ہے ،خاکم بدہن پاکستان کے ٹوٹنے کی بات ہو رہی ہے ،یہ بہت پریشان کن صورتحال ہے ،اس میں کسی کو غداری کے سرٹیفکیٹ دے دینا یا کسی کو پاکستان کا دشمن قرار دے دینا یہ مسئلے کا حل نہیں ہے بدقسمتی یہ ہے کہ پاکستان کی تاریخ جو ہے وہ مو قع پرست لوگوں سے بھری پڑی ہے،غداری کے سرٹیفکیٹ بانٹنے سے بھری پڑی ہے۔کہیں علامہ مشرقی پر پاکستان کی مخالفت کا الزام لگایا جاتا ہے اور کہیں فاطمہ جناح کو ایوب خان کے خلاف الیکشن لڑنے پر غدارکہا جاتا ہے اور اسی طرح کہیں بھٹو کو  غدار اور بے نظیر کو سیکورٹی رسک کہا جاتا ہے اور نواز شریف کو غداری کے جھوٹے مقدموں میں پھنسایا جاتا ہے اور اب عمران خان پر غداری کے جھوٹے مقدمے بنانے کی کوشش کی جا رہی ہے یہ پاکستان کے اندر انتہائی خطرناک صورتحال کی طرف نشاندہی کرتا ہے۔

ہم نے غداری کے سرٹیفکیٹ بانٹتے بانٹتے شیخ مجیب الرحمان کے ساتھ اور جو بنگلادیش بنتے وقت ہواکہ تاریخ نے دیکھاکہ 160سیٹیں  شیخ مجیب الرحمان نے جیتیں اور 80 سیٹیں بھٹو صاحب نے مغربی پاکستان میں جیتیںاور ہم نے باضد ہوکے ڈھاکہ میں اجلاس نہی بلایا اور اس کے بعد پاکستان جس طرح دو لخت ہوا، اس کے اندر جہاں بہت ساری غلطیاں سیاسی طور پر ہوئیں اسٹیبلشمنٹ نے بھی بہت سے غلط فیصلے کئے اور جتنی بھی غلطیاں ہوئیں تاریخ میںاب ان غلطیوں سے آخری موقع ہے سیکھنے کا۔

اور میری رائے میں امریکہ کے انفلینس میں آنے کا مقصد یہ ہے کہ ہم ایک سامراج سے دوسرے سامراج میں پھنستے جا رہے ہیں،یہی علامہ مشرقی نے 1952 میں کہااور یہی علامہ مشرقی نے 1946 میں کہا  یہ جو آزادی اس طرح مل رہی ہے اور امریکہ اس وقت بھی انفلینس کر رہا تھا وہ  چیلنج آف ماسٹر ہے اور کچھ بھی نہیں۔بد قسمتی سے قوم کو اسی چیلنج آف ماسٹر کی طرف دھکیل دیا گیا ، آج 75 سال کے بعد بھی ہم نام نہادجمہوریت اور مارشل لاء کے دور گزارنے کے بعد بھی اب تک یہ فیصلہ ہی نہیںکر پائے کہ ملک چلانے کیلئے ہمارے لیے کونسا نظام بہتر ہے۔ 

میں یہ سمجھتا ہوں کہ جہاں اتنے تجربے کیے وہاں پاکستان میں صدارتی نظام کا آج تجربہ کرنے کی بات ہو رہی ہے اس کے اندر بھی بہت سی اہم وجوہات ہیں اور میں سمجھتا  ہوں اس پر اب مکمل طور پر ڈسکشن ہونی چاہیے، وجہ اس کی یہ ہے کہ دنیا  میں آج جوکلی اختیاراتی نظام کامیاب ہیں کلی اختیاراتی نظام کیا ہوتے ہیں ایسے نظام جس میں عوام اپنی مرضی کی شخصیت کو مکمل اختیارات دیتے ہیں فیصلہ کرنے کا ، عوام کی طاقت جمہوری انداز میں ایک شخص کو دی جاتی ہے تا کہ روایت کے طور پر پارلیمانی نظام جس میں وزیراعظم جو بہت سارے اراکین کو خوش کرنے کے لیے مجبور ہوتا ہے، بہت ساری پارٹیوں کو ملا کر اقتدار چلانے میں مجبور ہوتا ہے۔ اسی نظام کو مسترد کر کے بہت سے ممالک کامیابی سے صدارتی نظام چلا رہے ہیں۔جس کی مثال  چین ،ترکی، امریکہ، فرانس اور بہت سے ممالک ہیں۔حتیٰ کہ بھارت میں ہے تو جمہوری نظام لیکن جتنی واضح اکثریت سے بی۔جے۔پی طاقت میں ہے وہ اس کو خودبخودکلی اختیاراتی نظام بنا دیتی ہے۔اسی طرح ہم نے برطانیہ میں دیکھا ہے کہ پچھلے تین الیکشن مسلسل کنڑرویٹو پارٹی جیتی ہے اور وہ کلی اختیاراتی نظام کی طرف جا رہے ہیں، کیونکہ جو بھی وزیراعظم بنتا ہے اس کو پارٹی کے اندر یا حکومت چلانے میں گنتی پوری کرنے کا کوئی چیلنج درپیش نہیں ہوتا ہے۔

اسی صورتحال کے اندر میں یہ سمجھتاہوںکہ اب سارے نظام کو لپیٹنے کی باتیں ہو رہی ہیں اگر معاشی طور پر معاملات ٹھیک نہ ہوئے تو پھر وہی ہو گا جس کی بازگشت  2 سال پہلے بھی ہو رہی تھیں، یہ نظام ڈھونڈا جا رہا ہے کہ عدالت کے ذریعے ریفرنڈم کروانے کی منظوری لی جائے اور ریفرنڈم کروایا جائے اور اگر آئینی اور قانونی راستے سے ریفرنڈم کا راستہ بنتا ہے اور پھر عوام ملک کے لیے پارلیمانی نظام کے بجائے صدارتی نظام کوبہتر سمجھتے ہیں توبالکل اس کا تجربہ ہونا چاہیے۔اس میں دو ، تین بہت اہم پہلو ہیں،ایک یہ کہ اس میں موروثی سیاست کی کافی حد تک حوصلہ شکنی ہو گی، دوسرا الیکٹیبل کی سیاست کا خاتمہ کافی حد تک ممکن ہو سکے گا  اور تیسرا پاکستان میں شخصیات کو ہی ووٹ پڑتے ہیں،بھٹو سے لے کر عمران خان تک ووٹ شخصیات کا ہی ہے اور شخصیات کا ہی ووٹ ہے توریفرنڈم ہی بہترین طریق کار نظر آتا ہے اور ریفرنڈم کے ذریعے جو بھی اقتدار حاصل کرتا ہے وہ پھر اپنی مرضی کی ٹیم بنا پاتا ہے، ہم نے دیکھا ہے کہ پچھلے جتنے بھی الیکشن ہوئے،جتنے بھی وزیراعظم رہے سب کا یہی شکوہ رہا کہ مجھے اپنی مرضی کی ٹیم بنانے نہیں دی گئی اور اتحادیوں کی صورت میں بلیک میلنگ کا سلسلہ حکومت کے اختتام تک جاری رہتا رہا۔جن میں سر فہرست ، ایم کیو ایم،پی ایم ایل ق ،جے یو آئی،اے این پی اور بلوچستان سے تعلق رکھنے والی پارٹیاں آج دن تک شامل ہیں۔

صدارتی نظام آنے سے ان پارٹیوں کی بلیک میلنگ کا خاتمہ ممکن ہو سکے گا اور اس کے ساتھ ساتھ یہ ہو گا کہ متناسب نمائندگی کے انداز میں ووٹنگ ہوتی ہے اور قطعی اکثریت نہیں ہو گی بلکہ ہر ایک شخص کا ووٹ کاؤ نٹ ہو گا،ایسے نہیں کے میرے حلقے میں 70 ہزار ووٹ پڑے اور  72 ہزار ووٹ والا جیت گیا  اور 70 ہزار جسے پڑے اس کی اہمیت ردی کی ٹوکری کی ہو گئی۔

صدارتی نظام کی خوبی یہ ہے کہ پورے ملک میں پڑا ہوا یک ایک ووٹ کاؤنٹ ہوتا ہے اور ہر ووٹ کی بہت اہمیت ہوتی ہے اور ٹوٹل نمبر آف ووٹ کے حساب سے سیٹوں کی تقسیم کی جاتی ہے۔ اس لئے الیکٹیبل کی اہمیت ختم ہو جاتی ہے اور بلیک میلنگ کا راستہ بھی ختم ہو جاتا ہے۔

پاکستان میں صدارتی نظام کے تجربے کی باز گشت کافی سنائی دے رہی ہے اور اس میں کچھ حقیقت بھی ہو گی، آئندہ آنے والے دنوں میں دیکھتے ہیں کہ کیا ہوتا ہے، سب سے اہم تو یہ ہے کہ حکومت ہر صورت معاشی مسائل پر قابو  پانے کی کوشش کرے اور لیکشن کے لئے کوئی لائحہ عمل تیار کرے تاکہ پاکستان اس سیاسی بھونچال سے نکلے اور دوسری آپشن کے طور پر صدارتی نظام کا آ ئینی طریقے سے کوئی تجربہ کرنا چاہتے ہیں تو اس میں کوئی حرج نہیں۔

مصنف کے بارے میں