سالگرہ کے دن موت آنے کے امکانات 14فیصد زیادہ ہوتے ہیں

سالگرہ کے دن موت آنے کے امکانات 14فیصد زیادہ ہوتے ہیں

لاہور:اپنی سالگرہ کا دن سب ہی بڑی خوشی سے مناتے ہیں اور یہ دن کسی بھی انسان کی زندگی میں واقعی ہی اہمیت کا حامل ہوتا ہے اور لوگ اس دن کو مختلف طریقوں سے مناتے ہیں۔لیکن کیا آپ نے کبھی سوچا کہ آپکی سالگرہ کا دن ہی آپ کی موت کا دن بھی ہو سکتا ہے؟سائنسدانوں کے مطابق کسی بھی انسان کی موت کے چانسز اس کے جنم دن پہ مرنے کے 14فیصد بڑھ جاتے ہیں ۔سوٹزر لینڈ کے سائنسدانوں کی ایک نئی تحقیق کے مطابق ایسا اس لیے ہوتا ہے کہ اکثر لوگ اپنے جنم دن پر اس خوف میں مبتلا ہوتے ہیں کہ کہیں یہ دن زندگی کا آخری دن نہ ہو۔


اس تحقیق کے مطابق 1989سے2008کے دوران پیدا ہونے والے 25لاکھ لوگوں کی زندگیوں پر تحقیق کی گئی جس کے نتائج کے مطابق ایسا شاید یعنی سالگرہ کے دن ہی مرنا اس لیے ہوتا ہے کہ لوگ اس دن بہت سی بد احتیاطیاں بھی کرتے ہیں کسی پارٹی میں پہنچنے کے لیے بے دھڑک گاڑی چلاتے ہیں یا ضرورت سے زیادہ کھاتے ہیں جس سے جنم دن پر ہی مرنے کے امکانات بڑھ جاتے ہیں ۔

اس تحقیقی کی سربراہی کرنے والے زیورخ یونیورسٹی کے سائنسدان ڈاکٹر ولادیتا کے مطابق ان حیران کن نتائج کو دیکھتے ہوئے لگتا ہے کہ اس دن اور موت کے درمیان کوئی گہرا تعلق موجود ہے۔

دوسری جانب ماہر شماریات سپیگل ہالٹر کے مطابق ایسا کچھ نہیں ہے اور سالگرہ کے دن مرنے کے امکانات 14فیصد اس لیے نظر آئے کہ تحقیق میں استعمال ہونے والے لوگوں کے جنم دن کے زیادہ تر اعداد و شمار غلط تھے۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ جنم دن پر مرنے کے زیادہ امکانات کے بارے کوئی سائنسی توجیح یا ثبوت موجود نہیں اور نہ ہی عقل اس کو تسلیم کرتی ہے۔