کورونا لاک ڈاؤن کے خلاف لندن میں مظاہرہ، متعدد افراد گرفتار

کورونا لاک ڈاؤن کے خلاف لندن میں مظاہرہ، متعدد افراد گرفتار
کیپشن:   کورونا لاک ڈاؤن کے خلاف لندن میں مظاہرہ، متعدد افراد گرفتار سورس:   file

لندن : ہزاروں افراد نے انگلینڈ میں لگنے والے پہلے لاک ڈائون کے ایک برس مکمل ہونے اور پابندیوں کو ختم کرنے کے حق میں وسطی لندن میں احتجاجی مظاہرہ کیا۔

 کورونا قواعد کی خلاف ورزیوں پر کئی افراد کو گرفتار کیا گیا اور متعدد کو فکسڈ پنالٹی ٹکٹس بھی جاری کیے گئے۔ مظاہرین  ہائیڈ پارک کارنر جمع ہونے شروع ہوگئے تھے، جہاں سے وہ روانہ ہوئے تو آکسفورڈ اسٹریٹ، چانسلری لین، ایمبیکنٹ، پارلیمنٹ اسکوائر اور ڈائوننگ اسٹریٹ سے گزرتے ہوئے ٹریفالگر اسکوائر پہنچے۔ 

مظاہرے میں شریک ہزاروں افراد کی اکثریت نے ماسک نہیں پہن رکھے تھے۔ امن و امان برقرار رکھنے کے لیے پولیس کی بھاری نفری شرکا کے ساتھ ساتھ چلتی رہی۔ متعدد مقامات پر چند شرکا کی پولیس کے ساتھ جھڑپیں بھی ہوئیں۔ شرکا نے پلے کارڈ اٹھا رکھے تھے، جن پر لاک ڈائون، پولیس اور حکومت کے نئے کرائم بل کے خلاف نعرے درج تھے۔

 شرکا تمام راستے فریڈم، فریڈم کے نعرے بھی لگاتے رہے۔ شرکا میں سابق لیبر لیڈر جیرمی کوربن کے بھائی جوکہ لندن میئر کے امیدوار بھی ہیں شریک تھے۔ ان کے علاوہ اداکار لارنس فوکس بھی شریک تھے۔

 شرکا کا کہنا تھا کہ لاک ڈائون کے سبب ملک کی معیشت تباہ اور طلبہ کا مستقبل غیر یقینی کا شکار ہے۔ شام کو جب شرکا واپس ہائیڈ پارک جارہے تھے تو تقریباً ایک سو افراد کے گروہ نے پولیس افسران پر حملہ کردیا، ان کو مکے اور لاتیں ماریں اور کین وغیرہ بھی پھینکے، جس کے بعد مظاہرین سے نمٹنے والی پولیس نے آکر حالات پر قابو پایامجموعی طور پر  پولیس نے36افراد کو گرفتار کیا۔

 ڈپٹی اسسٹنٹ کمشنر لارنس ٹیلر نے کہا کہ شرکا کی تعداد توقع سے بڑھ کر تھی، جن میں اکثریت نے پرامن طریقے سے اپنا ریکارڈ رجسٹر کرایا، صرف چند افراد نے امن و امان کی صورت حال کو خراب کرانے کی کوشش کی۔ یہ پولیس کے لیے چیلنجنگ ڈے تھا۔

 پولیس افسران مسلسل لوگوں کو قواعد کی خلاف ورزی سے باز رہنے اور گھر جانے کی تلقین کرتے رہے، لیکن جہاں پولیس سے جارحانہ رویہ اختیار کیا گیا تو پولیس کو لوگوں کو گرفتار کرنا پڑا۔بعض افراد کی طرف سے پولیس افسران کی طرف اشیا پھینکے جانے کے سبب وہ زخمی بھی ہوئےیہ رویہ ناقابل قبول اور افسوسناک ہے۔

 انہوں نے زخمی افسران کی جلد صحت یابی کے لیے نیک خواہشات کا اظہار بھی کیا۔ دریں اثناء انسانی حقوق کی تنظیم لبرٹی اور بگ برادر واچ نے ہوم سیکریٹری کے نام خط لکھ کر مطالبہ کیا ہے کہ لاک ڈائون کے دوران بھی پرامن احتجاجی مظاہروں کی اجازت دی جائے۔

 اس خط پر60سے زئد اراکین پارلیمنٹ و لارڈز کے دستخط بھی موجود ہیں۔ جن میں لبرل ڈیمو کریٹ پارٹی کے سربراہ سر ایڈ ڈیوی، سر چارلس واکر، اسٹیو بیکر اور دیگر شامل ہیں۔ خط میں کہا گیا ہے کہ جمہوری معاشروں سے لوگوں سے احتجاج کرنے کا حق نہیں چھینا جاسکتا ہے۔