مزید کیا ثبوت چاہئے…!

مزید کیا ثبوت چاہئے…!

وزیرِ اعظم جناب عمران خان کے خلاف تحریک عدم اعتماد 8 مارچ کو قومی اسمبلی سیکرٹیریٹ میں جمع کرائی گئی ہے۔ آئین کے تحت ضروری ہے کہ سپیکر زیادہ سے زیادہ 14 دن کے اندر اسمبلی کا اجلاس بلا کر اس کو ایوان میں پیش کرے اور پھر اگلے 4 سے 7 دن کے اندر اس پر رائے شماری کرائے۔ سپیکر نے قومی اسمبلی کا اجلاس 25 مارچ کو طلب کر لیا ہے۔ وزیر اعظم کے خلاف جب ان کی جماعت کے ارکان کی بغاوت سامنے آ چکی ہے، اتحادی بھی ان کا ساتھ چھوڑنے کے فیصلے کر رہے ہیں تو پھر پتا نہیں کیوں جناب وزیر اعظم اور ان کے ساتھی ابھی تک تحریک عدم اعتماد کی ناکامی کا یقین کیے بیٹھے ہیں۔ جناب وزیر اعظم کو قومی اسمبلی کے ایوان میں 178 تک ارکان کی حمایت حاصل رہی ہے جبکہ حزب اختلاف سے تعلق رکھنے والے ارکان کی تعداد 162 بنتی ہے۔ گویا 10ارکان وزیر اعظم کی حمایت سے دست گش ہو جائیں تو وہ ایوان کی اکثریت کا اعتماد کھو بیٹھتے ہیں۔ کیا مخالف جماعتیں جنھوں نے تحریک عدم اعتماد اس اعتماد اور یقین کے ساتھ قومی اسمبلی میں جمع کرائی ہے کہ یہ کامیابی سے ہم کنار ہو گی، اتنا بھی نہیں کر سکتیں یا کر سکی ہیں کہ وہ اپنے ارکان کے علاوہ حکمران جماعت کے منحرف ارکان اور ان کے ساتھ حکومت کی اتحادی جماعتوں کے ارکان جن کی مجموعی تعداد ایک محتاط اندازے کے مطابق تقریباً 60بنتی ہے میں سے کم از کم 12، 15 ارکان کے ووٹ تحریک عدم اعتمادکے حق میں ڈلوا سکیں۔ معروضی صورت حال کو سامنے رکھ کر واضح لفظوں میں یہ کہا جا سکتا ہے کہ حزب اختلاف کی جماعتوں کے لیے حکومت کی اتحادی جماعتوں سمیت تحریک انصاف کے منحرف ارکان کی حمایت حاصل کرنا (جو پہلے ہی حاصل کر چکے ہیں) اور تحریک عدم اعتماد کے حق میں ان کے ووٹ ڈلوانا کوئی مشکل امر نہیں رہا۔ یہ کہنا شاید غلط نہ ہو کہ پیپلز پارٹی اور پی ڈی ایم میں شامل جماعتوں نے وزیر اعظم کے خلاف تحریک عدم اعتماد جمع کرانے کا فیصلہ ہی اس وقت کیا جب انھیں یہ پورا یقین ہو گیا تھا کہ وہ تحریک عدم اعتماد کے حق میں مطلوبہ ارکان کی حمایت حاصل کرنے اور ان کے ووٹ ڈلوانے میں کامیابی سے ہم کنار ہونگے۔

صورت حال کی یہ منظر کشی جو کوئی ایسی ڈھکی چھپی نہیں اس بات کی متقاضی ہے کہ جناب وزیر اعظم تحریک عدم اعتمادکے قومی اسمبلی کے ایجنڈے پر آنے اور اس پر رائے شماری کرانے کے بعد اس کا نتیجہ سامنے آنے کا انتظار کرنے کے بجائے اس حقیقت کا ادراک کرتے ہوئے کہ وہ قومی اسمبلی کے ارکان کی اکثریت کا اعتماد کھو چکے ہیں لہٰذا ا اپنے منصب سے مستعفی ہونے کا فیصلہ کر لیں۔ لیکن وزیر اعظم اس طرح کا جمہوری روایات اور اقدار کا حامل فیصلہ کرنے کے بجائے اپنی ضد، ہٹ دھرمی اور انا پرستی کی روش کو برقرار رکھتے ہوئے اور اپنے قریبی مصاحبین کے غیر حقیقت پسندانہ اور آئین و قانون کے منافی مشوروں پر عمل کرتے ہوئے اپنے منصب سے چمٹے رہنے کو ہی ترجیح نہیں دے رہے ہیں بلکہ ایسے فیصلے بھی کر رہے ہیں جن کے نتیجے میں ملک و قوم غیر یقینی صورت حال سے ہی دو چار نہیں ہو چکے ہیں بلکہ بد امنی، فساد، لڑائی جھگڑے اور باہمی سر پھٹول کے خطرات بھی نوشتہ دیوار بن کر سامنے آ چکے ہیں۔ وزیر اطلاعات چودھری فواد حسین اگر یہ فرماتے ہیں کہ کس مائی کے لال میں جگر ہے کہ وہ 10 لاکھ کے مجمع سے گزر کر عمران خان کے خلاف ووٹ ڈالے اور پھر واپس (سلامت) جائے۔ کیا یہ کھلم کھلا خون خرابے کی دھمکی نہیں ہے؟ ریاستی اداروں کو اس کا نوٹس لینا چاہیے کہ ایک ذمہ دار عہدے پر فائز شخص طاقت کے استعمال کی دھمکیاں کیوں دے رہا ہے۔ اسی طرح وفاقی وزیر 

داخلہ شیخ رشید احمد بھی ہر 4، 6 گھنٹے کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے جس طرح کی گوہر افشانی کرتے رہتے ہیں ان کے ماضی اور حال کو سامنے رکھتے ہوئے کہا جا سکتا ہے کہ یہ گوہر افشانی ان کی شخصیت کی عکاسی کرتی ہے لیکن جس منصب (وزیر داخلہ) پر وہ فائز ہیں اس کے تقاضوں پر یہ گوہر افشانی کسی صورت میں بھی پورا نہیں اترتی۔ جناب شیخ کے بیانات جو حکومت کی اتحادی جماعتوں اور مخالفیں کیلئے طعن و تشنیع کے نشتروں سے بھرے ہوتے ہیں ایسے نہیں کہ انہیں کوئی زیادہ اہمیت دی جائے۔ تاہم ان کا یہ فرمان کہ جو اصلی اور نسلی ہیں 

وہ ساتھ نہیں چھوڑتے ایسا نہیں ہے جسے نظر انداز کیا جا سکے۔ شیخ صاحب سے پوچھا جا سکتا ہے کہ پرویز مشرف نے جب میاں نواز شریف کی حکومت کو ختم کر کے اقتدار پر قبضہ جمایا تھا تو شیخ صاحب میاں نواز شریف کی کابینہ میں وزیر تھے۔ کچھ ہی عرصہ بعد انھوں نے جنرل پرویز مشرف کا مصاحب بننا قبول کر لیا۔ تو کیا اس وقت اصلی اور نسلی ہونا ان کو یاد نہیں رہا تھا۔

جناب وزیر اعظم کے لیے انتہائی مناسب صورت یہ ہو سکتی ہے کہ وہ وزارت عظمیٰ کے منصب سے اپنے استعفیٰ سمیت صدر مملکت کو اس طرح کی سمری ارسال کریں کہ  جس کے تحت صدر قومی اسمبلی کا اجلاس جلد از جلد بلا نے اور نئے قائد ایوان کے انتخاب کے لیے ضروری اقدامات کی ہدایات جاری کریں۔ لیکن بات پھر وہی کہ وزیر اعظم اور ان کے مصاحبین اس طرح کی معقول بات کو کیوں کر قبول کر سکتے ہیں۔ اس کے بجائے وہ آئین کی شق 63A  جس میں ارکانِ پارلیمنٹ کی نااہلی کا ذکر ہے کی اپنے حواریوں سے ایسی توضیح کرانے میں لگے ہوئے ہیں جنھیں مستند ماہرین قانون و آئین تسلیم کرنے کے لیے تیار نہیں۔ جناب وزیر اعظم اگر ملک کو بد امنی فتنہ فساد اور غیر یقینی صورت حال سے بچانا چاہتے ہیں تو انھیں چاہیے کہ وہ بذات خود نہ صرف اس حقیقت کو تسلیم کر لیں بلکہ سپیکر قومی اسمبلی کو بھی یہ باور کرائیں کہ پی ٹی آئی کے منحرف ارکان تحریک عدم اعتماد کے حق میں نہ صرف ووٹ ڈال سکتے ہیں بلکہ ان کے ووٹ گنتی میں شمار بھی ہو سکتے ہیں۔ ہاں ووٹنگ کا عمل مکمل ہونے کے بعد انھیں بطور پارٹی لیڈر یہ اختیار ضرور حاصل ہے کہ وہ ان ارکان کے خلاف پارٹی پالیسی سے ہٹ کر ووٹ ڈالنے کی بنا پر ڈیفکشن کلاز لاگو کرنے کے لیے سپیکر کو خط لکھ سکتے ہیں۔ سپیکر اس خط یا یادداشت کو بنیاد بنا کر الیکشن کمیشن کو ان ارکان کی نااہلی کے ریفرنس بھیج سکتے ہیں۔ الیکشن کمیشن کا یہ اختیار ہے کہ وہ اس ریفرنس پر کیا فیصلہ دیتا ہے ان ارکان کو نا اہل قرار دیتا ہے یہ ان کو بدستور اپنے فرائض منصبی سر انجام دینے کی ہدایت کر تا ہے۔

قومی اسمبلی میں تحریک عدم اعتمادپر رائے شماری کرانے کی متوقع تاریخ 27 یا 28 مارچ کو اسلام آباد میں تحریک انصاف اور ان کی مخالف پی ڈی ایم کے جلسوں کے انعقاد کی وجہ سے ٹکراؤ اور مخالفت کی جو صورت حال بن رہی ہے۔ اس کو کسی بھی حوالے سے ملک و قوم کے لیے سود مند نہیں سمجھا جا سکتا۔ ایک طرف تحریک انصاف نے 10لاکھ افراد کے اسلام آباد میں جمع ہونے کا دعویٰ کر رکھا ہے تو دوسری طرف پی ڈی ایم کے سربراہ مولانا فضل الرحمان بھی ملک بھر سے اپنے کارکنوں کو 25مارچ سے اسلام آباد کے لیے لانگ مارچ کی کال دے چکے ہیں۔ یہ کارکن بھی بہت بڑی تعداد میں 27مارچ تک یہاں پہنچ سکتے ہیں۔ اس طرح یہ خطرہ اپنی جگہ پر موجود ہے کہ تحریک انصاف کے حامیوں اور ان کے مخالفین کا باہمی ٹھکراؤ ہو سکتا ہے۔ حکومت اگر ہوش کے ناخن لے اور 27مارچ کے اپنے جلسے کی منسوخی کا اعلان کر دے تو پھر اس ٹکراؤ سے بچا جا سکتا ہے۔ لیکن اس طرح کی سوچ کو ان حالات میں کہاں سے لایا جا سکتا ہے؟

مصنف کے بارے میں