'پاناما عملدرآمد کیس ، تحقیقات میں مداخلت کو کسی صورت برداشت نہیں کیا جائے گا'

'پاناما عملدرآمد کیس ، تحقیقات میں مداخلت کو کسی صورت برداشت نہیں کیا جائے گا'

اسلام آباد: پاناما کیس کی جے آئی ٹی  نے اپنی پہلی رپورٹ سپریم کورٹ میں جمع کرا دی۔ پاناما عملدرآمد کیس کی سماعت جسٹس اعجاز افضل کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے کی۔ جے آئی ٹی کے سربراہ واجد ضیا ء نے سربمہر عبوری رپورٹ عدالت کے روبرو پیش کی۔ اس موقع پر بینچ نے انہیں مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ عدالت کو آپ پر اعتماد ہے۔


جسٹس اعجاز افضل نے کہا کہ جے آئی ٹی اپنی تحقیقات ہر صورت ساٹھ روز میں مکمل کرے اضافی وقت نہیں دینگے اور تحقیقات میں مداخلت کو کسی صورت برداشت نہیں کیا جائے گا۔ جسٹس عظمت سعید نے ریمارکس دیئے کہ کوئی ادارہ یا شخص جے آئی ٹی سے تعاون نہ کرے اور کارروائی میں رکاوٹ ڈالے تو فوری آگاہ کیا جائے۔ رخنہ ڈالنے والوں سے عدالت خود نمٹ لے گی۔ عدالت نے کیس کی سماعت مزید دو ہفتوں کے لیے ملتوی کر دی۔

یاد رہے سپریم کورٹ نے 20 اپریل کو پاناما لیکس کے معاملے پر آئینی درخواستوں کا فیصلہ سنایا جو 23 فروری کو محفوظ کیا گیا تھا۔ فیصلہ 540 صفحات پر مشتمل تھا جسے جسٹس اعجاز اسلم خان نے تحریر کیا۔ پاناما کیس کے تفصیلی فیصلے کے آغاز میں جسٹس آصف سعید کھوسہ نے 1969 کے مشہور ناول 'دی گاڈ فادر' کا ذکر کرتے ہوئے لکھا، 'ہر بڑی دولت کے پیچھے ایک جرم ہوتا ہے'۔

فیصلے پر ججز کی رائے تقسیم رہی  کیونکہ 3 ججز ایک طرف جبکہ 2 ججز جسٹس آصف سعید کھوسہ اور جسٹس گلزار احمد خان نے اختلافی نوٹ لکھا اور وزیراعظم نواز شریف کو نااہل قرار دینے سے اتفاق کیا۔

فیصلے کے مطابق ایف آئی اے کے سینئر ڈائریکٹر کی سربراہی میں 7 دن کے اندر جے آئی ٹی تشکیل دی جائے گی جو 2 ماہ میں اپنی تحقیقات مکمل کرے گی جبکہ جے آئی ٹی کو ہر 2 ہفتے بعد سپریم کورٹ بینچ کے سامنے اپنی رپورٹ پیش کرنے کی بھی ہدایت کی گئی ہے۔

عدالتی فیصلے میں وزیراعظم نواز شریف اور ان کے صاحبزادوں حسن اور حسین نواز کو جے آئی ٹی کے سامنے پیش ہونے کی بھی ہدایت کی گئی۔

نیو نیوز کی براہ راست نشریات، پروگرامز اور تازہ ترین اپ ڈیٹس کیلئے ہماری ایپ ڈاؤن لوڈ کریں