نواز شریف کسی سابق جج یا بیورو کریٹ کو نگراں وزیر اعظم بنانا نہیں چاہتے، ذرائع

نواز شریف کسی سابق جج یا بیورو کریٹ کو نگراں وزیر اعظم بنانا نہیں چاہتے، ذرائع

شاہد خاقان عباسی نے نواز شریف کو راضی کرنے کے لیے مزید وقت مانگا ہے۔۔۔۔فوٹو/ بشکریہ ریڈیو پاکستان

اسلام آباد: نگراں وزیراعظم پر ڈیڈلاک کی وجہ یہ سامنے آئی ہے کہ مسلم لیگ کے قائد نواز شریف کسی سابق جج یا بیورو کریٹ کو نگراں وزیر اعظم بنانا نہیں چاہتے۔ وزیراعظم شاہد خاقان عباسی اور اپوزیشن رہنما خورشید شاہ کے درمیان عبوری حکومت کی تشکیل کے لیے آج پانچویں ملاقات ہوئی لیکن نگراں وزیراعظم کے نام پر اتفاق رائے نہ ہو سکا۔

 

ذرائع کے مطابق نواز شریف کسی جج یا بیوروکریٹ کے نام پر اتفاق نہیں چاہتے۔ وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی نے نواز شریف کو راضی کرنے کے لیے مزید وقت مانگا ہے۔

مزید پڑھیں: نیب بلاتفریق احتساب کرے گی تو دنیا گواہی دے گی، شہباز شریف

وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی نے خورشید شاہ سے تیسری بار نواز شریف کو راضی کرنے کے لیے وقت مانگا۔ اگر دو روز میں معاملہ حل نہ ہوا تو نگراں وزیراعظم کی تقرری کا اختیار پارلیمنٹ کے ہاتھ سے نکل جائے گا۔

 

وزیراعظم اور اپوزیشن لیڈر میں اتفاق نہ ہوا تو معاملہ پارلیمانی کمیٹی میں جائے گا۔ وزیراعظم اور خورشید شاہ پارلیمانی کمیٹی میں دو، دو نام بھیجیں گے اور پارلیمانی کمیٹی چار ناموں میں سے نگران وزیراعظم طے کرے گی، پارلیمانی کمیٹی بھی طے نہ کر سکی تو فیصلے کا اختیار الیکشن کمیشن کے پاس چلا جائے گا۔

 

یہ بھی پڑھیں: 'قطری خاندان کے ساتھ سرمایہ کاری، ایون فیلڈ کی سیٹلمنٹ سے کوئی تعلق نہیں'

وزیراعظم سے ملاقات کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے خورشید شاہ نے کہا کہ حکومت نے ابھی کسی نام پر اصرار نہیں کیا، پوری کوشش ہے وزیراعظم کے ساتھ مشاورت میں ہی نام فائنل ہو جائے اور معاملہ پارلیمنٹ میں ہی حل ہو۔

 

نیو نیوز کی براہ راست نشریات، پروگرامز اور تازہ ترین اپ ڈیٹس کیلئے ہماری ایپ ڈاؤن لوڈ کریں