پی آئی اے کے دفاتر میں ایئرکنڈیشن کے غیر ضروری استعمال پر پابندی عائد

پی آئی اے کے دفاتر میں ایئرکنڈیشن کے غیر ضروری استعمال پر پابندی عائد

کراچی:پی آئی اے میں اصلاحات کا عمل جاری ہے، غیر ضروری اخراجات پر قابو پانے کیلئے انتظامیہ نے اقدامات کیے ہیں،دفاتر میں ایئرکنڈیشن کے غیر ضروری استعمال پر پابندی عائد کردی گئی، فضائی میزبانوں کیلئے بھی نیا حکم نامہ جاری کردیا۔


مختلف بیسز سے تعلق رکھنے والے فضائی میزبان اپنے ہی بیس سے ڈیوٹیاں سرانجام دیںگے، کراچی بیس سے تعلق رکھنے والے فضائی میزبان اپنے ہی بیس پر رہتے ہوئے اندرون و بیرون ملک جانے والی پروازوں پر اپنے فرائض انجام دیں گے۔اس حوالے سے جی ایم فلائٹ سروسز عامر بشیر کا کہنا ہے کہ ماضی میں کراچی بیس سے سب سے زیادہ بین الاقوامی پروازیں آپریٹ ہوتی تھیں، لاہور اور اسلام آباد سیکٹر سے سب سے زیادہ بین اقوامی پروازیں آپریٹ ہوتی ہیں۔

ان سیکٹر پر آپریٹ ہونے والی پروازیں مقامی بیس سے تعلق رکھنے والی فضائی میزبانوں کی ڈیوٹیاں لگائی جائیں گی، انہوں نے کہا کہ پشاور سے تعلق رکھنے والے فضائی میزبانوں کو ضرورت پڑنے پر اسلام آباد سے آپریٹ ہونے والی پروازوں کیلئے ان کی خدمات حاصل کی جائیں گی۔اس سے قبل مختلف بیسز سے تعلق رکھنے والی فضائی میزبانوں پر ہر ماہ کروڑوں روپے کے اخراجات ہوٹل کی مد میں انتظامیہ کو برداشت کرنا پڑتے تھے۔

اس کے علاوہ پی آئی اے کے تمام دفاتر میں ایئرکنڈیشن کے غیر ضروری استعمال پر پابندی عائد کردی گئی ہے، پی آئی اے افسران کی شامت آگئی ،خالی کمرے میں اے سی چلتا ہوا پایا گیا تو جرمانہ ہوگا۔

تمام دفاتر میں ایئرکنڈیشن25 سینٹی گریڈ سے زائد استعمال نہ کیا جائے، کسی بھی افسر یا کمرے میں خالی اے سی چلتا ہوا پایا گیا تو اس افسر پر ایک ہزار روپے جرمانہ عائد کیا جائے گا۔پی آئی اے کے چیف پروجیکٹ افسر کی جانب سے احکامات جاری کردیے گئے، ان کا کہنا ہے کہ ویجیلنس کمیٹی احکامات پر عملدرآمد کرنے کیلئے اقدامات کرے۔