اسٹیبلشمنٹ کا یو ٹرن

اسٹیبلشمنٹ کا یو ٹرن

ملٹری اسٹیبلشمنٹ نے خود آگے بڑھ کر سیاسی جماعتوں کو گرین سگنل دیا کہ وہ نیوٹرل ہوگئی اب آئینی طریق کار کے مطابق عدم اعتماد کی تحریک لائی جاسکتی ہے ۔ یہ ہرگز کوئی احسان نہ تھا کیونکہ پوری طرح سے اندازہ لگا لیا گیا تھا کہ ایک پیج کے تحت عمران خان کو آگے رکھ حکومت اور معاملات چلانے کا تجربہ صرف ناکام نہیں ہوا بلکہ الٹا گلے پڑ گیا ۔ ملک کی مالی حالت قابل رحم ہوگئی تو دوسری جانب پوری دنیا سے کٹ کر رہ گئے ۔ افغانستان سے روانگی اور سی پیک پر کام رک جانے کے بعد امریکہ کی پاکستان میں دلچسپی رسمی سفارتی تعلقات سے بھی سکڑ کر نیچے آگئی ۔ پورپ کے پہلے ہی سے مفادات بہت کم تھے ۔ چین شدید ناراض ہوگیا ۔ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات جیسے مخیر دوستوں y' پاکستان کے اندرونی حالات اور ہر طرح کا خلفشار دیکھنے کے بعد اپنا وزن علانیہ طور پر بھارت کے پلڑے میں ڈال دیا ۔ آج ہم اپنی خفت مٹانے کے لیے روس کی بات تو کرتے ہیں مگر یہ محض ڈھکوسلہ ہے ۔ اگر ہم اگلے پچاس سال تک پوری دنیا کے عتاب کو نظر انداز کرتے ہوئے مکمل خلوص کے ساتھ روس کے ساتھ تعلقات بنانے کے لیے دن رات کوششیں کریں تب بھی اس مقام پر نہیں پہنچ سکتے جہاں آج بھارت ہے ۔ بھارت مقبوضہ کشمیر کا اپنی مرضی کے مطابق حل نکلنے اور پاکستان کی جانب سے اگلی کئی دہائیوں تک کسی بھی قسم کی فوجی مہم جوئی نہ ہونے کے ٹھوس یقین دہانی باوجود ہمیں کسی طرح سے بھی لفٹ کرانے کو تیار نہیں ۔ آج عالم یہ ہے کہ سرکاری طور پر بتایا گیا کہ کراچی میں پچھلے دنوں ہونے والے بم دھماکے ایران میں موجود گروپ کرارہا ہے ۔ ادھر افغانستان میں یہ حال ہے کہ ٹی ٹی پی سے مذاکرات اور جنگ بندی کرانے کے لیے افغان طالبان سے ثالثی کی اپیل کرنا پڑی ۔ دنیا کی آٹھویں بڑی فوج ، ایٹمی طاقت اور نمبر ون خفیہ ایجنسی کے دعویداروں کو کور کمانڈر پشاور کی سربراہی میں جرگہ لے کر کابل حاضری دینا پڑی ۔ ٹی ٹی پی کے مطالبات تسلیم کرنا پڑے ۔ ان کے قیدیوں کو باعزت اور فوری رہائی دینا پڑی ۔ جنگ بندی کا وعدہ لیا گیا ۔ ستم ظریفی تو ہے کہ اس گرینڈ جرگے کا علامیہ بھی ٹی ٹی پی کے ترجمان محمد خراسانی نے جاری کیا ۔ آگے چلنے سے پہلے سے یاد رکھیں کہ کل کلاں جب خود افغان طالبان ڈیورنڈ لائن کو انٹرنیشنل بارڈر تسلیم نہ کرنے کا معاملہ اٹھائیں گے تو ہم کہاں کھڑے ہونگے ۔ ہوسکتا ہے اس وقت وسیع تر قومی مفاد میں یہ پرچار کیا جائے کہ ڈیورنڈ لائن کوئی پتھر پر لیکر تو نہیں ۔ انگریزوں کی کھینچی لائن ہے آگے پیچھے کیوں نہیں ہوسکتی ۔ کہنے کا مقصد یہ ہے کہ ایک طرح تو ہم نے اسٹیبلشمنٹ کی 22 سالہ جد و جہد کے بعد تیار کردہ ‘‘ عالمی لیڈر’’ تازہ تازہ کھویا ہے ۔ دوسری جانب منظر یہ ہے کوئی ہمیں لفٹ کرانے کو تیار نہیں ۔ شھباز شریف نے وزیر اعظم بننے کے بعد سعودی عرب ، متحدہ عرب امارت کا دورہ ، چین اور قطر سے رابطہ کیا گیا تو یہ بات کھل کر سامنے آگئی کہ کوئی بھی پاکستان سے مطمئن نہیں ۔ دھاندلی اور دھونس سے مسلط کی گئی ایک پیج کی حکومت کی بدترین کارکردگی سے ریاست کی ساکھ مجروح ہو چکی ہے ۔ سب پوچھ رہے ہیں کہ جو مالی امداد دی وہ کہاں گئی ، اگر آئندہ کچھ دیں گے تو اسکے صحیح استعمال کی گارنٹی کیا ہوگی ؟ چین کی ناراضگی بہت بڑھ چکی ہے ۔ پاکستان میں کام کرنے والے اس کے انجئیر اور پروفیسر تک محفوظ نہیں ۔ ابھی چار سال پہلے تک اندرون ملک جہازوں ، ریلوے سٹیشنوں ، بسوں ، ہوٹلوں ، کاروباری مراکز، تفریحی مقامات میں چینی شہریوں کی بڑی تعداد بھاگتی پھرتی نظر آتی تھی ۔ آج اس حوالے سے ہو کا عالم ہے ۔ لاہور چیمبر کے ایک سینئر عہدیدار اس بات کا ذکر بہت دکھ سے کررہے تھے کہ ترقی کے روشن مواقع کو لپیٹ دیا گیا ۔ اب آتے ہی ملکی سیاسی صورتحال کی طرف تو حالیہ بحران کی سب سے بڑی وجہ بھی سی پیک ہی ہے ۔ بالکل اسی طرح جیسے 2014 کے دھرنوں کا اولین مقصد سی پیک کو رکوانا تھا ۔ جب تک عمران خان کی ظاہری وزرات اعظمی کے دوران ہائبرڈ سسٹم قائم رہا امریکی مطمئن رہے ۔ سیاسی جماعتوں کی حکومت قائم ہوتے ہی سی پیک کا شور پھر سے اٹھا تو امریکی بلاک تیزی سے حرکت میں آگیا ۔ پاکستان سے عدم دلچسپی اور لاتعلقی کا معاملہ اچانک ختم ہوتا نظر آرہا ہے ۔ پوری تیاریاں ہیں ایک طویل عرصے کے بعد مکمل سفارتی تعلقات قائم کرتے ہوئے امریکی  صدر جو بائیڈن نے ڈونلڈ ارمین بلوم کو پاکستان میں نیا امریکی سفیر نامزد کردیا ہے ۔

ڈونلڈ بلوم اس وقت شمالی افریقی ملک تیونس میں امریکی سفیر کی ذمہ داریاں سرانجام دے رہے ہیں۔ مبصرین کے مطابق امریکہ کی یہ کوشش ہوگی کہ نئے سفیر کی پاکستان آمد کے بعد اسلام آباد میں اس کا سفارتخانہ اس ملک میں چین کے بڑھتے سیاسی اور اقتصادی اثرات کو محدود کرنے میں اہم کردار ادا کرے۔سو ہم سب کو جان لینا چاہیے کہ اسٹیبلشمنٹ اچانک اپنی ہی درخواست پر بنائی گئی نئی حکومت کی حمایت سے پیچھے کیوں ہٹ گئی ہے۔ بلکہ الٹا گھیرائو شروع کردیا ہے ۔ سپریم کورٹ نے منحرف ارکان سے ووٹ ڈالنے کا جو حق چھینا تمام قانونی ماہرین اسے آئین میں ترمیم قرار دے رہے ہیں ۔ عدالت عظمیٰ کے اسی بنچ میں شامل دو فاضل جج صاحبان کی بھی یہی رائے ہے جو سو فیصد درست ہے ۔ عدالت کے اس فیصلے سے سب سے زیادہ فائدہ پی ٹی آئی کو ہوا جس کے کارکن عارف علوی ایوان صدر میں بیٹھ کر حکومت کے لیے مزید مشکلات پیدا کرتے رہیں گے ۔ اس فیصلے کے دو دن بعد ہی چیف جسٹس نے عمران خان کے مطالبے پر حکومت کو ایف آئی اے میں تبادلے کرنے سے روک دیا ۔ اس طرح شریف فیملی ایک بار پھر 2017 والی جے آئی ٹی اور نگران جج کے شکنجے میں آگئی ۔ عام خیال یہی ہے کہ شہباز شریف اور حمزہ کو بھی نااہل کرادیا جائے گا ۔ تاکہ مستقبل میں عمران خان کی واپسی کا راستہ روکنے کا اہتمام کرتے وقت کہا جاسکے کہ ہم نے میرٹ پر فیصلہ کرتے ہوئے کسی کو نہیں بخشا ۔ 2014 کی طرح پی ٹی آئی کا نیا دھرنا بھی سٹیٹ سپانسرڈ رامہ ہوگا ۔ مقاصد اب بھی وہی ہیں ۔ جنرل پاشا ، جنرل ظہیر الاسلام ، جنرل راحیل اور موجودہ افسر پیچھے نہ ہو تو عمران خان اور ان کی پوری جماعت اکیلے رانا ثنا اللہ کی مار ہے ۔ اچھا ہوا وزیرِداخلہ نے بتا دیا کہ ان کو عمران خان کی گرفتاری اور دھرنے کو منتشر کرنے سے روکا جارہا ہے ۔ نیوٹرل پوری کوشش کررہے ہیں کہ حکومت کے ہاتھ پاؤں باندھ کر اسے رسوا کرایا جائے ۔ اب تو شہباز شریف جیسے صلح جو بھی تنگ آمد بجنگ آمد کے مصداق چیخ پڑے ہیں کہ فوج ، حکومت سے تعاون نہیں کررہی ہے ۔ دلچسپ بات یہ ہے حکومت کی راہ میں رکاوٹیں ڈالنے والی اسٹیبلشمنٹ یہ دبائو بھی ڈال رہی ہے کہ بجلی ، گیس اور پٹرول کے نرخوں میں عالمی اداروں کے مطالبات کے مطابق کمر توڑ اضافہ کیا جائے تاکہ کم ازکم انکے گلشن کا کاروبار تو چلے ۔ ساتھ ہی حکومت کو یہ لالی پاپ بھی دیا جارہا ہے کہ اس کے بعد نگران سیٹ اپ بنے گا جو سب کو انتخابات میں حصہ لینے کے لیے یکساں مواقع فراہم کرے گا اور الیکشن تو آپ نے جیت ہی جانا ہے ۔ جن کو ورغلانے کی کوشش کی جارہی ہے وہ اچھی طرح سے جانتے ہیں کہ ایسا ہوا تو تو ان کا حشر نشر کردیا جائے گا، کمائو پوت ن لیگ سے ایک مسئلہ اور بھی ہے ۔ن لیگ سے فوجی قیادت کا ایک بڑا گلہ یہ بھی ہے کہ وہ کفایت شعاری کے نام پر دفاعی بجٹ پر بھی بات کرنا شروع کردیتے ہیں ، پچھلی حکومت کے دوران ایک سے زیادہ میٹنگوں میں وزیر خزانہ اسحق ڈار اور آرمی چیف کے درمیان گفتگو باقاعدہ بحث کی شکل اختیار کرگئی تھی ، اسحق ڈار اکثر فائلیں لے کر جی ایچ کیو کے چکر لگاتے بھی نظر آئے اور شاید پھر اسی چکر میں جلاوطن ہونے پر بھی مجبور ہوگئے۔جہاں تک عمران خان کا تعلق ہے وہ پہلے کوئی مسئلہ تھے نہ اب ہیں اگرچہ ان کو گولڈ سمیتھ ہاؤس اور امریکہ سمیت پوری ویسٹ لابی کی آشیر باد حاصل ہے مگر وہ لوکل اسٹیبلشمنٹ کی عملی مدد کے بغیر گھر سے بھی نہیں نکل سکتے ۔ ابھی کچھ عرصہ پہلے ہی جب ان کے ‘‘دوستوں ‘‘نے ٹی ایل پی سے مارچ کرایا تو ہزاروں پیرا ملٹری ٹروپس کے پہرے میں بھی بنی گالہ محل میں رہنا مشکل ہوگیا تھا ۔ جی ٹی روڈ پر خندقیں کھودی جاری تھیں ۔ فواد ، شیخ رشید وغیرہ کے چہروں پر موت کی سفیدی چھا چکی تھی ۔ اب بھی سب شغل میلہ ہے ۔ مریم اور مولانا فضل الرحمن نے بڑے بڑے جوابی جلسے کر کے پی ٹی آئی کا یہ غرور بھی توڑ دیا ۔ مگر اب صاف نظر آرہا ہے کہ عالمی اسٹیبلشمنٹ کے اشارے پر ان کے مقامی کارندے اور عمران کے پرانے دوست پھر حرکت میں آچْکے ہیں۔ بعض مبصرین کا خیال ہے نئی حکومت آتے ہی عمران خان کو گرفتار کرکے پہلے سے تیار کردہ فائلوں کے ذریعے دھڑا دھڑ مقدمے بنا دیتی تو یہ بت بھی ٹوٹ جاتا ۔ اب پتہ چل رہا کہ فوجی قیادت نے ایسا کرنے سے روک دیا تھا۔ فوجی قیادت ہی کیوں پیپلز پارٹی کی بھی یہی رائے تھی ۔ توہین مسجد نبوی جیسے کھلے حقائق والے کیس میں فرحت اللہ بابر نے مقدمات بنانے کی مخالفت کرکے حکومت کو مشکل میں ڈال دیا ۔ یہ بات بھی یاد رکھی جائے کہ پی ڈی ایم میں شامل جماعتیں ایک سوچ کی حامل ہیں جبکہ پیپلز پارٹی اور اے این پی اپنا الگ موقف رکھتی ہیں ۔ ایسا نہ ہوتا تو 2020 میں ہی تین استعفے آسکتے تھے ۔ 

بہتر راستہ تو یہی ہے مخلوط حکومت فوری طور پر استفعے دے کر سڑکوں پر نکل آئے ورنہ نہ صرف ٹیکنو کریٹس کی مجوزہ عبوری حکومت کا دورانیہ طویل ہوجائے گا بلکہ سیاسی جماعتوں کو توڑ کر ، لیڈروں کو عدالتوں سے نااہل کراکے اگلے عام انتخابات میں پوری طرح سے مرضی کے نتائج حاصل کیے جائیں گے ۔

مصنف کے بارے میں