احتساب عدالت میں خواجہ حارث کی نیب کے گواہ پر جرح

احتساب عدالت میں خواجہ حارث کی نیب کے گواہ پر جرح

اسلام آباد :احتساب عدالت میں سابق وزیراعظم نواز شریف ‘ مریم نواز اور کیپٹن (ر)محمد صفدر کے خلاف نیب ریفرنسز کی سماعت کے دوران خواجہ حارث ایڈووکیٹ نیب کے گواہ پر جرح کے دوران غصے میں آگئے اور گواہ کو کہا کہ آپ جھوٹ بول رہے ہیں جس پر نیب کے پراسیکیوٹر نے اعتراض اٹھایا کہ گواہ کو کنفیوژ کیا جارہا ہے۔


نیب پراسیکیوٹر اور خواجہ حارث ایڈووکیٹ کے درمیان گرما گرمی پر فاضل جج محمد بشیر نے دونوں کو کہا کہ اگر آپ نے لڑنا ہے تو پھر میں چلا جاتا ہوں‘ دو گواہوں کے بیانات ریکارڈ ہونے پر عدالت نے سابق وزیراعظم نواز شریف ‘ مریم نواز اور کیپٹن (ر) صفدر کو جانے کی اجازت دیدی‘ سابق وزیراعظم نواز شریف کی طرف سے عدالت حاضری سے استثنیٰ کی تاریخوں میں تبدیلی کی درخواست دائر کردی گئی جبکہ مریم نواز نے5دسمبر سے 5جنوری تک عدالت حاضری سے استثنیٰ کی نئی درخواستوں پر عدالت نے نیب کو نوٹس جاری کردیا ‘ عدالت نے کیس کی سماعت28نومبر تک ملتوی کردی۔

سماعت کے دوران نیب کے گواہ محمد رشید نے اپنا بیان ریکارڈ کراتے ہوئے بتایا کہ نیب لاہور نے انہیں پانچ ستمبر کوخط بھیجا کہ دستاویزات لیکرنیب لاہور کے دفتر حاضر ہوجائیں ۔ انہوں نے کہا کہ میں تفتیشی افسر عمران ڈوگر کے سامنے حاضر ہوا اور اسے تمام دستاویزات فراہم کیں اور اس نے مجھ سے وصول کیں جو ریفرنس کا حصہ بنائی گئی ہیں۔ گواہ نے کہا کہ میں نے لفافہ بند دستاویزات ان کو دیں ان دستاویزات سے میرا ذاتی کوئی تعلق نہیں ہے گواہ محمد رشید نے بتایا کہ نیب نے 5 ستمبر سے پہلے کوئی خط نہیں لکھا اور 6 ستمبر 2017 کے علاوہ کبھی نیب کے سامنے پیش نہیں ہوا ۔جس پر نواز شریف کے وکیل خواجہ حارث نے جرح کی۔