جمال خاشقجی کا قتل ایک سنگین غلطی تھی، عادل الجبیر

جمال خاشقجی کا قتل ایک سنگین غلطی تھی، عادل الجبیر
سعودی ولی عہد محمد بن سلمان نے صحافی کی ہلاکت کا حکم نہیں دیا تھا، سعودی وزیر خارجہ۔۔۔۔۔فوٹو/ بشکریہ اے ایف پی

ریاض: سعودی عرب نے اس بات کا اعتراف کر لیا ہے کہ صحافی جمال خاشقجی کو قتل کیا گیا تھا تاہم سعودی حکام کا کہنا ہے کہ ایسا ایک ’بلا اجازت کی جانے والی کارروائی‘ میں کیا گیا۔


ادھر سعودی بادشاہ شاہ سلمان اور ولی عہد محمد بن سلمان نے جمال خاشقجی کے بیٹے کو ٹیلیفون کر کے ان سے تعزیت بھی کی ہے۔

سعودی وزیر خارجہ عادل الجبیر نے امریکی ٹی وی چینل فاکس نیوز کو دیے گئے ایک خصوصی انٹرویو میں کہا ہے کہ یہ اقدام ایک ’بڑی غلطی‘ تھی تاہم ان کا اصرار تھا کہ سعودی ولی عہد محمد بن سلمان نے صحافی کی ہلاکت کا حکم نہیں دیا اور وہ اس ساری کارروائی سے لاعلم تھے۔

جمال خاشقجی کے قتل پر شدید عالمی ردعمل سامنے آیا ہے اور سعودی عرب پر دباؤ بڑھتا جا رہا ہے کہ وہ حقائق سامنے لائے جبکہ ترکی نے کہا ہے کہ وہ آنے والے دنوں میں دنیا کے سامنے اس سلسلے میں ’کھلا سچ‘ پیش کر دے گا۔

جمال خاشقجی دو اکتوبر کو استنبول میں سعودی قونصل خانے میں داخل ہونے کے بعد سے لاپتہ ہیں۔ ترک حکام نے ان کی گمشدگی کے چند دن بعد ہی کہہ دیا تھا کہ انھیں قتل کر دیا گیا ہے تاہم سعودی حکام اس سے انکار کرتے رہے تھے۔

گذشتہ ہفتے سعودی حکام نے جمال خاشقجی کی ہلاکت کی تصدیق تو کی تھی تاہم کہا تھا کہ وہ ایک لڑائی کے دوران دم گھٹنے سے ہلاک ہوئے۔ تاہم اب اس واقعے کو سعودی حکومت نے ایک ’روگ آپریشن‘ یعنی بلااجازت باغیانہ کارروائی قرار دیا ہے۔

خیال رہے کہ سعودی عرب کی جانب سے صحافی جمال خاشقجی کی موت کی تصدیق کے بعد ترکی نے اس عزم کا اظہار کیا تھا کہ وہ جمال خاشقجی کی موت کی تمام تفصیلات جاری کرے گا اور کسی کو اس معاملے میں پردہ پوشی کی اجازت نہیں دے گا۔