ن لیگ کو جمعہ راس نہیں مگر پی ٹی آئی کو کون سا دن راس نہیں ،،،،،،، تہلکہ خیز انکشاف سامنے آگیا

 ن لیگ کو جمعہ راس نہیں مگر پی ٹی آئی کو کون سا دن راس نہیں ،،،،،،، تہلکہ خیز انکشاف سامنے آگیا

اسلام آباد: پاکستان تحریک انصاف کو ضمنی انتخابات میں ان نشستوں پر شکست کا سامنا کرنا پڑا جن میں انہوں نے عام انتخابات میں کامیابی حاصل کی تھی اور اسی کو مد نظر رکھتے ہوئے۔معروف صحافی نے ٹویٹر پر انتہائی مضحکہ خیز بات کہہ دی ہے کہ ن لیگ کو جمعہ اور پی ٹی آئی کیلئے اتوار کا دن بھاری ہے ۔


تفصیلات کے مطابق شریف خاندان کو اس وقت نیب کیسز کا سامنا ہے تاہم دلچسپ امر یہ ہے کہ نوازشریف کیخلاف سپریم کورٹ اور نیب کورٹ کی جانب سے فیصلے جمعہ کے دن ہی آئے ہیں جبکہ شہبازشریف جمعہ کے دن نیب میں پیشی پر گئے تو انہیں گرفتار کر لیا گیا جس کے باعث سوشل میڈیا پر یہ مشہور ہوا کہ شریف خاندان کیلئے جمعہ کا دن بھاری ہے اور ن لیگ کا خوب مذاق بھی بنایا گیا جبکہ پی ٹی آئی کے صارفین نے تو ’جمعہ‘ کی جگہ گرفتاری بھی لکھنا شروع کر دیا،کسی نے کہا کہ شہبازشریف کو کس نے کہا تھا کہ وہ جمعہ کے دن نیب کے پاس جائیں ۔

ن لیگ کیلئے جمعہ جبکہ پی ٹی آئی کیلئے اتوار کا دن بھاری ثابت ہو رہاہے کیونکہ 14 اکتوبر اور 21 اکتوبر کو قومی و صوبائی اسمبلی کی خالی ہونے والی نشستوں پر ضمنی انتخابات ہوئے اور اس میں تحریک انصاف عام انتخابات میں حاصل کی گئی سیٹوں پر ہی الیکشن ہار گئی جس کے بعد پی ٹی آئی کو بڑے اپ سیٹ کا سامنا کرنا پڑا ۔

پاکستان تحریک انصاف گزشتہ روز ہونے والے ضمنی انتخاب میں پی کے 71 جہاں سے عام انتخابا ت میں گورنر کے پی کے شاہ فرمان نے کامیابی حاصل کی تھی وہ ہاتھ سے نکل گئی ہے ، اس نشست پر اے این پی کے امیدوار صلاح الدین نے کامیابی سمیٹ لی ہے ۔جبکہ 14 اکتوبر کو اتوار کے روز عمران خان کی عام انتخابات میں جیتی ہوئی دو قومی اسمبلی کی نشستیں پی ٹی آئی کے ہاتھ سے نکل گئیں جن میں ایک این اے 131 اور دوسری بنوں سے این اے 35 ہے ۔

اس ضمن صحافی جمشید بھگوان نے ٹویٹر پر پیغام جاری کرتے ہوئے کہا کہ ”جیسے جمعہ ہمیشہ مسلم لیگ کے لئے بھاری ہوتا تھا پی ٹی آئی کو اتوار راس نہیں آرہا قدرت کے بھی کیا کھیل ہیں“۔