خاشقجی کا قتل، سعودی عرب کوجرمن ہتھیاروں کی فراہمی معطل

خاشقجی کا قتل، سعودی عرب کوجرمن ہتھیاروں کی فراہمی معطل
image by facebook

 ہیمبرگ :جرمن چانسلر میرکل نے سعودی صحافی جمال خاشقجی کے قتل کے باعث سعودی عرب کو جرمن ہتھیاروں کی فراہمی معطل کر دی ہے جب کہ جرمن وزیر اقتصادیات نے مطالبہ کیا ہے کہ خاشقجی کے قتل کے معاملے میں پورے یورپ کو متحد ہو جانا چاہیے۔


وفاقی چانسلر انگیلا میرکل نے سعودی عرب کے اس اعتراف کے بعد کہ جمال خاشقجی استنبول کے سعودی قونصل خانے میں ہلاک ہو گئے تھے، کہا ہے کہ ابھی تک ریاض حکومت ان حقائق کی تسلی بخش وضاحت نہیں کر سکی کہ سعودی حکمرانوں پر تنقید کرنے والے سعودی عرب ہی کے شہری اور امریکی اخبار واشنگٹن پوسٹ کے کالم نگار خاشقجی کی موت قونصل خانے میں کن حالات میں اور کیوں ہوئی۔

چانسلر میرکل نے کہا کہ جب تک ریاض حکومت خاشقجی کی موت کے اسباب اور حالات کی مکمل اور تسلی بخش وضاحت نہیں کرتی، سعودی عرب کو جرمن ہتھیاروں کی فراہمی معطل رہے گی۔

سال رواں کے دوران برلن حکومت سعودی عرب کو 400 ملین یورو سے زائد مالیت کے ہتھیاروں کی فروخت کی منظوری دے چکی ہے۔ یہ رقم قریب 462 ملین امریکی ڈالر کے برابر بنتی ہے۔ اس طرح سعودی عرب شمالی افریقی ریاست الجزائر کے بعد اس سال جرمن ہتھیار خریدنے والا دوسرا بڑا ملک ہے۔