پاکستان میں’107 جعلی اکاؤنٹس سے 54 ارب روپے بیرون ملک منتقل

پاکستان میں’107 جعلی اکاؤنٹس سے 54 ارب روپے بیرون ملک منتقل
image by facebook

کراچی :جعلی اکاونٹس سے مبینہ طور پر اربوں روپے بیرون ملک منتقل کرنے کے مقدمے کی تحقیقات کرنے والی مشترکہ تحقیقاتی ٹیم کے سربراہ نے اب تک ہونے والی پیشرفت سے متعلق سپریم کورٹ میں ایک رپورٹ جمع کروائی ہے۔


رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ 107 جعلی اکاؤنٹس سے 54 ارب روپے سے زائد کی رقم دوسرے ملکوں میں منتقل کی گئی ہے ، اس سے پہلے عدالت کو یہ بتایا گیا تھا کہ 35 ارب روپے غیر قانونی طریقے سے بیرون ملک منتقل کیے گئے ہیں۔

نامہ نگار شہزاد ملک کے مطابق اس رپورٹ میں اس بات کا بھی ذکر کیا گیا ہے کہ کئی کیسوں کیں اکاؤنٹس محدود مدت میں کھولے گئے اور اربوں روپے بیرون ملک منتقل کرنے کے بعد ان اکاونٹس کو بند کردیا گیا۔

واضح رہے کہ جعلی اکاؤنٹس کے ذریعے رقم کی منتقلی کے مقدمے میں پاکستان کے سابق صدر اور حزب مخالف کی جماعت پاکستان پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری اور ان کی بہن فریال تالپور ملزمان میں شامل ہیں۔

چیف جسٹس میاں ثاقب نثار کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ نے پیر کو جعلی اکاؤنٹس کے ذریعے رقم منتقلی سے متعلق از خود نوٹس کی سماعت کی تو جے آئی ٹی کے سربراہ اور ایف آئی اے کے ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل احسان صادق نے اس مقدمے میں ہونے والی پیش رفت سے متعلق رپورٹ پیش کی۔

جے آئی ٹی کے سربراہ کا کہنا تھا کہ تحقیقات میں سندھ حکومت کی جانب سے تعاون نہیں کیا جا رہا ، اُنھوں نے کہا کہ صوبے کے چیف سیکریٹری سمیت دیگر حکام جے آئی ٹی کے ساتھ تعاون نہیں کر رہے جس پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اگر ایسا ہے تو ایسے تمام سرکاری افسران کو طلب کر لیتے ہیں جو اس مقدمے میں جے آئی ٹی کے ساتھ تعاون نہیں کر رہے۔