عمران خان کا دورہ سعودی عرب تنقید کی زد میں

عمران خان کا دورہ سعودی عرب تنقید کی زد میں
image by facebook

اسلام آباد : پاکستانی وزیراعظم عمران خان کے دورہء سعودی عرب پر پاکستان میں متعدد حلقے چراغ پا ہیں اور وہ اس دورے کے مقاصد اور وقت پر پی ٹی آئی کی حکومت کو تنقید کا نشانہ بنا رہے ہیں۔


عمران خان سعودی عرب کے دورے کے پر پير بائيس اکتوبر کو روانہ ہوئے، جہاں وہ سرمایہ کاری کانفرنس میں شرکت کے علاوہ سعودی فرمانرواں شاہ سلمان اور ولی عہد محمد بن سلمان سے بھی ملاقاتیں کریں گے۔ رياض حکومت کو اس وقت بین الاقوامی برادری میں شدید سفارتی تنہائی کا سامنا ہے۔

 کئی ممالک اور کمپنیوں نے قدامت پرست بادشاہت میں ہونے والی سرمایہ کاری کانفرنس کا بھی بائیکاٹ کر دیا ہے۔ سعودی صحافی جمال خاشقجی کے قتل کے بعد امریکا اور یورپی ممالک ریاض سے وضاحتیں طلب کر رہے ہیں۔

پاکستان میں تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ ایک ایسے وقت جب ریاض بین الاقوامی برادری کی طرف سے تنقید کی زد میں ہے، وہاں کا دورہ غیر دانشمندانہ ہے۔ اسلام آباد کی پریسٹن یونیورسٹی کے شعبہء بین الاقوامی تعلقات سے وابستہ ڈاکڑ امان میمن کا کہنا ہے کہ یہ حکومت سفارتی فہم و فراست سے عاری نظر آتی ہے۔

سمجھ سے باہر ہے کہ ایک ایسے وقت میں جب یورپی یونین سعودی صحافی کے قتل پر چراغ پا ہے، امریکا سعودی عرب کو جھوٹا قرار دے رہا ہے، انسانی حقوق کی تنطیمیں ریاض حکومت کی مذمت کر رہی ہیں اور جرمنی ہتھیاروں کا معاہدہ منسوخ کرنے کے اشارے دے رہا ہے۔

ہم یہ دنیا کو تاثر دے رہے ہیں کہ ہم قدامت پرست بادشاہت کے ساتھ کھڑے ہیں۔ یہ دورے کے ليے انتہائی نا مناسب وقت ہے۔ اس سے یورپی ممالک بھی ہم سے ناراض ہوں گے اور خطے کے دو اہم ملک ایران اور ترکی بھی چراغ پا ہوں گے۔