ترکی کسی دوسرے ملک کی سر زمین پر نظریں نہیں رکھتا، طیب اردوان

ترکی کسی دوسرے ملک کی سر زمین پر نظریں نہیں رکھتا، طیب اردوان
آپریشن شام کی سر زمین کے کچھ حصوں پر قبضے کرنے کے لئے نہیں کیا جا رہا، طیب اردوان۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فائل فوٹو

انقراہ: ترکی کے وزیراعظم طیب اردوان نے واضح کیا ہے کہ شام پر کیے گئے حملے کا مقصد زمین کے ٹکڑے پر قبضہ کرنا نہیں ہے۔ عرب میڈیا کی رپورٹ کے مطابق رجب طیب اردوان نے انقراہ میں ایک فورم سے خطاب کرتے ہوئے اپنے حامیوں کو دہشت گردی کے خلاف جنگ میں ان کی حمایت نہ کرنے پر شدید تنقید کا نشانہ بھی بنایا۔ ان کا کہنا تھا کہ ترکی کسی دوسرے ملک کی سر زمین پر نظریں نہیں رکھتا۔


اردوان نے کہا کہ ان پر الزامات عائد کیے جا رہے ہیں کہ یہ آپریشن شام کی سر زمین کے کچھ حصوں پر قبضے کرنے کے لیے کیے جا رہے ہیں لیکن یہ الزامات عائد کرنے والے ہماری توہین کر رہے ہیں۔

خیال رہے کہ انقراہ کردش پیپلز پروٹیکشن یونٹس (وائے پی جی) کو ایک دہشت گرد تنظیم قرار دیتا ہے جو کردستان ورکرز پارٹی (پی کے کے ) کی ذیلی جماعت ہے جسے امریکا اور یورپی یونین نے بھی بلیک لسٹ قرار دیا ہے۔

خیال رہے کہ 05 اکتوبر کو صدر طیب اردوان نے شام میں فوجی آپریشن کا عندیہ دیا تھا جس کا مقصد شام میں ترکی کی سرحد سے متصل سرحد پر ایک ’’سیف زون‘‘ بنانا تھا۔