اعلیٰ عدلیہ سے گزارش ہے کہ وہ صفدر کی گرفتاری کا نوٹس لیں: نواز شریف

اعلیٰ عدلیہ سے گزارش ہے کہ وہ صفدر کی گرفتاری کا نوٹس لیں: نواز شریف
file photo

لندن: سابق وزیراعظم نواز شریف نے اپنے داماد کیپٹن ریٹائر صفدر کی مشکوک گرفتاری کے بعد اعلیٰ عدلیہ سے گزارش کی ہے کہ وہ اس کیس کا نوٹس لیں۔

وزیر اعظم عمران خان کی حالیہ تقریر جس میں عمران خان نے سابق وزیر اعظم کو سخت انتباہ جاری کیا پر اپنا ردعمل ظاہر کرتے ہوئے نواز شریف کا کہنا تھا کہ بہت کچھ ہو رہا ہے۔ مجھے لگتا ہے کہ معزز عدلیہ کو نوٹس لینا چاہئے اور وہ اس طرح کے اقدامات یعنی صفدر کی گرفتاری کے خلاف ازخود نوٹس لینے کی اہلیت رکھتے ہیں۔

گذشتہ ہفتے مسٹر خان نے اسلام آباد میں ٹائیگر فورس کنونشن میں ایک جذباتی تقریر میں کہا تھا کہ وہ مسٹر شریف کو واپس پاکستان لانا اور انہیں جیل میں ڈالنا اپنی ترجیح بنائیں گے۔

واضح رہے کہ رواں ہفتے کیپٹن صفدر کو کراچی پولیس کی جانب سے گرفتار کیا گیا تھا اور پھر ضمانت پر رہا بھی کر دیا گیا تھا۔ جب اہلکاروں نے ہوٹل کے کمرے میں چھاپہ مارا تو وہاں صفدر کی اہلیہ مریم نواز بھی موجود تھی جو پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ کے جلسے کے بعد وہاں آرام کر رہی تھی۔

اگرچہ مسٹر شریف نے براہ راست یہ نہیں کہا کہ عدلیہ کو کس معاملے کا از خود نوٹس لینا چاہئے ، انہوں نے سندھ پولیس کی جانب سے پولیس چیف کے ساتھ ہونے والی زیادتی کے خلاف احتجاج درج کرنے کے عمل کو سراہا۔

خیال رہے کہ کہا جاتا ہے کہ آئی جی سندھ کے ساتھ جو کچھ ہوا اس کارروائی کے پیچھے اسٹیبلشمنٹ کا ہاتھ ہے۔

یاد رہے کہ نواز شریف کے متنازعہ خطاب کے بعد عمران خان نے کہا تھا کہ اب وہ اپوزیشن کا مقابلہ ڈٹ کر کریں گے اور نواز شریف کو پاکستان لا کر اُن کو دوبارہ جیل میں ڈالیں گے۔ اس حوالے سے پاکستان تحریک انصاف کی حکومت نے ایک باز پھر لندن سے رابطہ بھی کیا ہے۔