احتساب عدالت نے اپوزیشن لیڈر کو جیل میں ضروری سہولیات فراہم کرنے کا حکم دیدیا

احتساب عدالت نے اپوزیشن لیڈر کو جیل میں ضروری سہولیات فراہم کرنے کا حکم دیدیا
Screenshot by Twitter

لاہور: احتساب عدالت نے کوٹ لکھپت جیل کی انتظامیہ کو حکم دیا ہے کہ وہ قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف شہباز شریف کو ان کے جیل خانہ میں موجود دیگر سہولیات کے علاوہ گھر کا پکا ہوا کھانا اور ایک میٹرس فراہم کرے۔

تفصیلات کے مطابق احتساب عدالت کا حکم مسلم لیگ (ن) کے صدر کی درخواست کی سماعت کے دوران سامنے آیا۔ اس فیصلے کا اعلان ایڈمن جج جواد الحسن نے کیا تھا ، انہوں نے کہا تھا کہ شہباز کو ان کی طبی تاریخ کی روشنی میں قانون کے مطابق سہولیات فراہم کی جائیں گی۔

محترم جج صاحب نے حکم دیا کہ میٹرس، کرسی اور گھر کے کھانے کے علاوہ شہباز شریف کو تمام دوسری سہولیات فراہم کیں جائیں۔ اس حکم کے ساتھ ہی احتساب عدالت نے جیل سپریڈنٹ سے اگلی پیشی پر سہولیات کی رپورٹ بھی طلب کر لی ہے۔

سماعت کے دوران شہباز شریف کے وکیل نے موقف اپنایا درخواستگزار کی عمر 70 سال ہے اور وہ کینسر سمیت دیگر بیماریوں کے مریض ہیں جبکہ جسمانی ریمانڈ کے دوران درخواستگزار کو مکمل میڈیکل سہولیات فراہم نہیں کی گئیں۔ پنجاب حکومت نے 2018 میں شہباز شریف کی صحت کے حوالے سے میڈیکل بورڈ تشکیل دیا تھا۔

وکیل امجد پرویز نے مزید کہا شہباز شریف مختلف مستقل بیماریوں میں مبتلا ہیں۔ عدالت سے استدعا ہے شہباز شریف کو جیل میں میڈیکل اور دیگر ضروری سہولیات فراہم کرنے کے احکامات جاری کئے جائیں۔ بعدازاں عدالت نے آئندہ سماعت پر سپرنٹنڈنٹ جیل سے سہولیات سے متعلق رپورٹ طلب کر لی

خیال رہے کہ قومی احتساب بیورو (نیب) نے قائد حزب اختلاف اور مسلم لیگ (ن) کے صدر شہباز شریف کو آمدن سے زائد اثاثہ جات اور منی لانڈرنگ کیس میں گرفتار کیا تھا تاہم گزشتہ روز عدالت نے انہیں جوڈیشل  ریمانڈ پر کوٹ لکھپت جیل بھیج دیا تھا۔ مسلم لیگ (ن) نے پارٹی صدر کو جیل میں سہولیات نہ دینے کا ذمہ دار وزیراعظم عمران خان کو ٹھہرایا تھا۔