پنجاب میں خالی سستے سہولت بازار، حکومت اور مقامی انتظامیہ کا منہ چڑانے لگے

پنجاب میں خالی سستے سہولت بازار، حکومت اور مقامی انتظامیہ کا منہ چڑانے لگے
Screenshot by Twitter

لاہور: ہر طرف مہنگائی نے آگ لگا دی، شہری کہتے ہیں حکومت نے دو وقت کی روٹی بھی مشکل کر دی۔

وزیراعظم کی ہدایات پر پنجاب حکومت نے جگہ جگہ سستے سہولت بازار تو قائم کر دیئے، لیکن اشیائے ضرورت کی فراہمی یقینی نہ بنائی جا سکی، فیصل آباد اور ملتان میں خالی اسٹالز پنجاب حکومت اور مقامی انتظامیہ کا منہ چڑانے لگے۔

پنجاب حکومت نے عوام کو مہنگائی سے نجات دلانے کیلئے جگہ جگہ سستے سہولت بازار تو قائم کر دیئے، لیکن اشیائے ضرورت کی فراہمی یقینی نہ بنائی جا سکی۔

ہر طرف مہنگائی نے آگ لگائی، کراچی میں 10 کلو آٹے کا تھیلا چھ سو سے ساڑھے چھ سو میں ملنے لگا۔ آٹے کی قیمتوں میں اضافے کے بعد ، کوئٹہ کے نان بائی ہڑتال پر چلے گئے، نان بائی ایسوسی ایشن کا کہنا ہے کہ آٹا مہنگا، گیس ہے نہیں ، سلنڈر پر روٹی بنانا وارے میں نہیں۔

پشاور میں چینی 110 روپے فی کلو ، آٹے کا 20 کلو کا تھیلا 1450 روپے سے کم نہ ہوا۔ چکن فی کلو 193 پر پہنچ گیا۔

ادارہ شماریات کی دستاویز کے مطابق گندم اور چینی کی درآمد کے باوجود قیمتوں میں اضافہ جاری ہے۔ دستاویز کے مطابق ملک میں سب سے مہنگا آٹا سندھ کے شہری خریدنے پر مجبور، دوسرے نمبر پر خیبر پختونخوا میں آٹا مہنگا فروخت ہو رہا ہے، تیسرے نمبر پر بلوچستان میں آٹے کی قیمت زیادہ ہے۔

ادھر وفاقی دارالحکومت بھی شدید مہنگائی کی لپیٹ میں آچکا ہے، اشیاء ضروریہ کے حوالے سے ضلعی انتظامیہ کے جاری کردہ نرخ نامے کو مارکیٹوں ، بازاروں ، رہائشی علاقوں کی دکانوں اور منڈی میں پس پشت ڈال دیا گیا ہے۔ اسلام آباد کے رہائشی علاقوں میں تندوروں پر دس روپے میں روٹی دستیاب تھی گزشتہ روز اس کی قیمت میں 2 روپے کا اضافہ کر دیا گیا ۔